اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے مسلسل رجحان پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی جانب سے غیر ضروری تاخیر کو محض معمولی بے ضابطگی تصور نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے آئندہ عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ آبزرویشن 2012 میں ضلع دادو میں قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے علی رضا سیال کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے دی۔ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے نوٹ کیا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں واقعے کی اطلاع اسی رات پولیس کو مل گئی تھی، لیکن ایف آئی آر تین دن سے زیادہ تاخیر کے بعد درج کی گئی۔
عدالت نے اپنے سابقہ محمد بخش کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر پر لازم ہے کہ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کرے۔ عدالت کے مطابق فوجداری تحقیقات میں وقت کی اہمیت بڑھ چکی ہے اور تاخیر سے فرانزک شواہد ضائع یا کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے مقدمے کے میرٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل کو یکم جنوری 2025 سے اب تک قتل کے تمام مقدمات سے متعلق رپورٹ دو ماہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ میں وقوعے کے وقت، پولیس کو اطلاع دینے کے وقت اور ان مقدمات کی نشاندہی شامل ہوگی جن میں ایف آئی آر 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد درج کی گئی۔
عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو محمد بخش کیس کا فیصلہ سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب کرنے کی ہدایت بھی کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئندہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی متعلقہ انسپکٹر جنرل پولیس، ایس پی انویسٹی گیشن اور سب ڈویژنل پولیس افسر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔
عدالت نے پولیس دستاویزات میں شہری کے لیے استعمال ہونے والی بعض روایتی اصطلاحات پر بھی اعتراض دہرایا اور کہا کہ شہری ریاستی اداروں سے قانونی حق کے طور پر رجوع کرتا ہے، کسی رعایت کے طالب کے طور پر نہیں۔ فیصلے کے مطابق اگر ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ سے ظاہر ہو کہ پولیس نے جرم کا علم ہونے کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج میں دانستہ تاخیر کی، تو عدالت وجہ ریکارڈ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے اور معاملہ محکمانہ کارروائی کے لیے پولیس سربراہ کو بھی بھیج سکتی ہے۔
یہ حکم سندھ پولیس کے طریقہ کار سے متعلق عدالتی نگرانی کا تسلسل ہے اور اس کا مرکزی نکتہ فوجداری مقدمات میں بروقت اندراج اور شواہد کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
