اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ کوہستان اسکینڈل سے منسلک ایک جائیداد کی سیلنگ کے خلاف آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب نیب ریفرنس کسی مخصوص احتساب عدالت میں زیر سماعت ہو اور درخواست گزار اسی معاملے پر پہلے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کر چکا ہو تو ایک ہی تنازع کے لیے مختلف عدالتی دائرہ اختیار استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے درخواست گزار پر فورم شاپنگ اور مکمل حقائق ظاہر نہ کرنے پر ایک لاکھ روپے خصوصی اخراجات بھی عائد کیے۔
جسٹس شاہرُخ ارجمند کی سنگل بینچ نے 53 صفحات کے تفصیلی فیصلے میں امجد خان کی درخواست مسترد کی۔ درخواست گزار نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-13/4 میں واقع مکان نمبر 6، اسٹریٹ 154 کی ڈی سیلنگ اور 29 جولائی 2026 کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر اٹھائے گئے گھریلو سامان، زیورات، نقدی اور گاڑیوں کی واپسی مانگی تھی۔ یہ کارروائی پشاور کی احتساب عدالت نمبر تین میں زیر سماعت ایک نیب ریفرنس سے منسلک بتائی گئی۔
عدالت نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 16(e) کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ نیب چیئرمین کو حقائق و حالات کے مطابق پاکستان میں قائم کسی بھی متعلقہ احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کا قانونی اختیار دیا گیا ہے، اور ایک بار ریفرنس اس عدالت میں دائر ہو جائے تو متعلقہ قانونی اعتراضات اسی نظام کے اندر اٹھائے جانے چاہئیں۔ فیصلے کے مطابق یہ خصوصی قانونی بندوبست عام فوجداری مقدمات کے علاقائی دائرہ اختیار کے اصولوں پر فوقیت رکھ سکتا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار اسی جائیداد اور متعلقہ حکم کے بارے میں پہلے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر چکا تھا۔ عدالت کے مطابق وہاں درخواست گزار نے اس قانونی راستے کو قبول کیا جس کے تحت اس کی آئینی درخواست کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 13 کے تحت متعلقہ اعتراض میں تبدیل کیا گیا۔ اس پس منظر میں دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے اسی بنیادی معاملے پر ریلیف مانگنا عدالت نے فورم شاپنگ قرار دیا۔
فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ نیب کی ہر کارروائی ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ مخصوص کیس میں زیر سماعت ریفرنس، قانونی دائرہ اختیار اور درخواست گزار کے پہلے سے اختیار کیے گئے عدالتی راستے سے متعلق ہے۔ عدالت نے اس اصول پر زور دیا کہ فریق ایک ہی تنازع میں مختلف فورمز کو آزما کر متضاد یا متبادل احکامات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔
اسی روز ایک الگ نیب معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، قومی اسمبلی و سینیٹ کے سیکریٹریز اور وزارت قانون سے اس درخواست پر جواب بھی طلب کیا جس میں نیب مقدمات کی اپیلوں کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو دینے والی قانون سازی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ الگ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے اسے کوہستان جائیداد والے فیصلے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
موجودہ فیصلے میں حتمی نتیجہ امجد خان کی درخواست کا اخراج، ایک لاکھ روپے خصوصی اخراجات اور پشاور کی متعلقہ احتساب عدالت کے دائرہ اختیار کی توثیق ہے۔ اصل نیب ریفرنس میں الزامات کی صداقت یا ملزمان کی مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ اس آئینی درخواست میں نہیں کیا گیا۔




