اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ ملک گیر احتجاج اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں کے انسپکٹرز جنرل پولیس اور ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور معاملے کی سماعت کے لیے بڑا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا بنیادی مطالبہ پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی بتایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ احتجاج غیر قانونی ہے اور اس سے وفاقی دارالحکومت میں کاروبار، آمدورفت اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وکیل نے کہا کہ ان کا موکل اسلام آباد میں کاروبار کرتا ہے اور ماضی کے احتجاجی حالات میں تاجروں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے سابقہ احتجاجوں کے حوالے سے جانی نقصان اور مالی خسارے کے دعوے بھی پیش کیے۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ احتجاج میں 24 کروڑ روپے کے مالی نقصان کا ذکر کیا اور کہا کہ تین رینجرز اہلکار بھی جان سے گئے تھے۔ یہ دعوے درخواست گزار کے وکیل کے مؤقف کا حصہ ہیں اور عدالت نے اس مرحلے پر ان الزامات یا اعداد و شمار کو حتمی عدالتی نتیجہ قرار نہیں دیا۔

وکیل نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات اور پی ٹی آئی کی حالیہ متحرک مہم کا حوالہ بھی دیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا احتجاجی قافلہ صوبائی حکومتی مشینری کے ساتھ اسلام آباد آئے گا، جس پر وکیل نے اثبات میں جواب دیا اور نومبر 2024 کا وزارت داخلہ کا ایک خط بھی پیش کیا۔ وکیل کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ احتجاج میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے تھے، جبکہ اس بار بھی اسلام آباد کے ضلعی مجسٹریٹ کے پاس تاحال باقاعدہ درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔

درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات یا اپیلوں کے فیصلوں پر سڑکوں کے ذریعے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا اور احتجاج کے لیے واضح قانونی رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ عدالت نے ان نکات پر فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ متعلقہ سرکاری افسران اور قانونی نمائندوں کو نوٹس جاری کرکے ان کا موقف طلب کیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ آئندہ کارروائی میں عدالت متوقع احتجاج کے قانونی، انتظامی اور امن و امان سے متعلق پہلوؤں پر فریقین کا مؤقف سنے گی۔ چونکہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے، اس لیے درخواست گزار کے اعتراضات، ممکنہ خطرات اور احتجاج کے اثرات سے متعلق تمام دعوے عدالتی جانچ اور سرکاری جواب کے تابع ہیں۔