اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان بیت المال کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا 1 دسمبر 2022 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس میں ادارے کو دو کمسن ہندو لڑکیوں کے لیے باقاعدہ مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے نتیجے میں دونوں لڑکیوں کو فی کس 10 ہزار روپے ماہانہ امداد ملتی رہے گی اور اس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

دستیاب عدالتی کارروائی کے مطابق پاکستان بیت المال نے سندھ ہائیکورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی مالی معاونت کی ہدایت مؤثر رہے گی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ بعض معاملات میں عدالتیں صرف قانونی نکات تک محدود رہنے کے بجائے متاثرہ افراد کی عملی مشکلات اور بنیادی حالات کو بھی دیکھ سکتی ہیں۔

یہ مقدمہ دو کمسن ہندو لڑکیوں کی فلاح اور معاشی تحفظ سے متعلق ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے 2022 میں پاکستان بیت المال کو ہدایت کی تھی کہ دونوں بچیوں کو ماہانہ امداد فراہم کی جائے، اور یہ معاونت ان کی شادی تک جاری رہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد ہونے کے بعد اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

عدالتی فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان بیت المال وفاقی سطح پر سماجی بہبود اور مالی معاونت کے پروگرام چلاتا ہے، جبکہ عدالت نے اس کیس میں ادارے کی ذمہ داری کو متاثرہ بچیوں کی مخصوص صورتحال کے تناظر میں برقرار رکھا۔ دستیاب رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ فیصلے کے بعد ادارہ کسی مزید قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس خبر میں صرف عدالتی حکم اور دستیاب کارروائی کی تصدیق شدہ تفصیلات شامل کی گئی ہیں؛ کسی فریق کے بارے میں ایسی کوئی اضافی وجہ یا الزام شامل نہیں کیا گیا جو عدالتی ریکارڈ یا معتبر رپورٹ میں ثابت نہ ہو۔