کراچی: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں منگل کو آگ لگنے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا دفتر مکمل طور پر جل گیا۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق آگ میئر کے دفتر سے متصل کچن میں بھڑکی اور بعد ازاں شعلوں نے قریبی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ نے کارروائی کے بعد آگ پر قابو پا لیا اور اسے بجھا دیا۔

ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ واقعے کے فوری بعد توجہ عمارت کے متاثرہ حصے کو محفوظ بنانے اور آگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے پر مرکوز رہی۔ دستیاب معلومات کے مطابق میئر آفس کو شدید نقصان پہنچا اور اسے مکمل طور پر جل جانے کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ تاہم مالی نقصان کی حتمی مالیت، متاثر ہونے والے سرکاری ریکارڈ یا سامان کی تفصیل اور عمارت کے دوسرے حصوں کی حالت کے بارے میں فوری طور پر مکمل اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

فائر ڈپارٹمنٹ نے آگ کے آغاز کی جگہ کچن بتائی ہے، لیکن اس مرحلے پر آگ لگنے کی اصل وجہ کی باضابطہ حتمی تشخیص سامنے نہیں آئی۔ اس لیے کسی برقی خرابی، انسانی غلطی یا دوسرے ممکنہ سبب کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ واقعے کی نوعیت اور سرکاری عمارت میں ہونے والے نقصان کے پیش نظر متعلقہ اداروں سے توقع ہے کہ وہ تکنیکی معائنہ اور نقصان کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کریں گے۔

کے ایم سی ہیڈ آفس کراچی کی شہری انتظامیہ کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں میئر اور بلدیاتی ادارے کے مختلف شعبوں کے دفتری امور انجام پاتے ہیں۔ میئر کے دفتر کو پہنچنے والا نقصان انتظامی سرگرمیوں پر عارضی اثر ڈال سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کے ایم سی کی جانب سے فوری طور پر کسی متبادل دفتری انتظام یا خدمات کی بندش کا باقاعدہ اعلان رپورٹ نہیں ہوا۔

کراچی میں حالیہ دنوں میں مختلف مقامات پر آتش زدگی کے واقعات کے باعث شہری عمارتوں اور صنعتی تنصیبات میں فائر سیفٹی انتظامات پر توجہ بڑھی ہے۔ موجودہ واقعہ ایک سرکاری عمارت میں پیش آیا، اس لیے آگ بجھانے کے بعد اصل وجہ، حفاظتی نظام کی کارکردگی اور عمارت کے متاثرہ حصے کی ساختی حالت سے متعلق جانچ اہم ہوگی۔

یہ واقعہ ابتدائی مرحلے میں ایک ڈیولپنگ اسٹوری کے طور پر رپورٹ ہوا ہے۔ لہٰذا آگ کے سبب، مکمل مالی نقصان، ریکارڈ یا سازوسامان کے متاثر ہونے اور عمارت کے معمول کے کام کی بحالی سے متعلق کسی بھی نتیجے کو متعلقہ حکام کی آئندہ باضابطہ معلومات سے مشروط سمجھا جائے گا۔