اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان بیت المال کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ کا وہ حکم برقرار رکھا ہے جس میں دو نابالغ ہندو بچیوں کو بیت المال کی مالی معاونت کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔ عدالتی حکم کے مطابق دونوں بچیوں کو فی کس 10 ہزار روپے ماہانہ امداد دی جائے گی اور اس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ ادائیگی ان کی شادی تک جاری رہے گی۔
ڈان کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔ پاکستان بیت المال نے سندھ ہائی کورٹ کے یکم دسمبر 2022 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اپیل منظور نہیں کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ایسے معاملات میں، جہاں کسی شخص یا خاندان کی حالت عدالت کے سامنے ایسی ہو کہ بیت المال کی معاونت مناسب معلوم ہو، عدالتیں معاملہ متعلقہ فلاحی ادارے کو غور کے لیے بھیج سکتی ہیں۔ اس نکتے کا مقصد ہر درخواست میں براہ راست مالی حکم جاری کرنا نہیں بلکہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے اندر ضرورت مند افراد کے کیس کا جائزہ یقینی بنانا ہے۔
مقدمہ بنیادی طور پر دو کم عمر لڑکیوں کی کفالت اور معاشی تحفظ سے متعلق تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان بیت المال کو انہیں مستفید افراد کے طور پر رجسٹر کرنے اور ماہانہ امداد دینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی انسانی ہمدردی پر مبنی تشویش کو سراہا، ساتھ ہی مستقبل کے مقدمات کے لیے ایک زیادہ منظم اصول بھی وضع کیا تاکہ ایسے معاملات میں متعلقہ فلاحی ادارے کی قانونی ذمہ داری اور انتظامی دائرہ واضح رہے۔
یہ فیصلہ کسی وسیع نئی مالی اسکیم کے اعلان کے مترادف نہیں، بلکہ ایک مخصوص مقدمے میں پہلے سے جاری عدالتی حکم کی توثیق ہے۔ تاہم عدالتی آبزرویشن اس لحاظ سے اہم ہے کہ ضرورت مند افراد کے معاملات میں عدالتیں محض تکنیکی قانونی سوالات تک محدود رہنے کے بجائے بنیادی انسانی اور فلاحی مسئلے کو بھی متعلقہ ادارے کے سامنے لا سکتی ہیں۔




