اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر 2026 کے مجوزہ ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے لیے بڑا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ابتدائی سماعت کے دوران معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے آئینی اثرات ہو سکتے ہیں۔

درخواست شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ احتجاج سے وفاقی دارالحکومت میں معمولات زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ وکیل نے عدالت کے سامنے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات کا حوالہ بھی دیا اور مؤقف اپنایا کہ سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال سمیت مختلف قانونی سوالات عدالت کے سامنے موجود ہیں۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے دعوے ہیں اور ان پر حتمی عدالتی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پولیس کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا، جبکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹس جنرل کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اگلی سماعت 10 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان پارٹی بانی عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں کیا ہے۔ پارٹی ملک کے مختلف حصوں سے کارکنوں کو متحرک کر رہی ہے۔ دوسری جانب درخواست گزار نے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دے کر ممکنہ امن و امان اور اقتصادی نقصانات سے متعلق خدشات عدالت کے سامنے رکھے ہیں۔

ہائی کورٹ نے اس مرحلے پر نہ احتجاج پر پابندی عائد کی ہے اور نہ درخواست کے بنیادی دعوؤں پر حتمی فیصلہ دیا ہے۔ موجودہ پیش رفت کا تعلق درخواست کی سماعت کے طریقہ کار، متعلقہ حکام کی حاضری اور آئینی و قانونی نکات کے جائزے سے ہے۔ 10 ستمبر کی سماعت میں سرکاری اداروں اور قانونی نمائندوں کے مؤقف سامنے آنے کے بعد مقدمے کی آئندہ سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔