اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی ایک شق کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں یا محکموں کی سفارش پر شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کیے جا سکتے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی پابندی کے لیے واضح مجاز اتھارٹی، قابلِ جانچ قانونی بنیاد اور متاثرہ شہری کے حقوق کے تحفظ کا مناسب طریقہ کار ضروری ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا محض کسی ادارے یا محکمے کی سفارش پر شہری کی بیرون ملک سفر کی آزادی محدود کی جا سکتی ہے، جبکہ قواعد میں یہ واضح نہ ہو کہ حتمی فیصلہ کرنے والی اتھارٹی کون ہے، فیصلہ کن قانونی معیار کیا ہوگا اور متاثرہ شخص کو اعتراض یا سماعت کا مؤثر موقع کیسے ملے گا۔ عدالت نے اسی پس منظر میں متعلقہ شق کو آئینی تقاضوں سے متصادم قرار دیا۔

پاسپورٹ کنٹرول لسٹ، ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور دیگر سفری پابندیوں کے طریقہ کار پاکستان میں طویل عرصے سے عدالتی جانچ کا موضوع رہے ہیں۔ عدالتیں مختلف مقدمات میں یہ اصول دہراتی رہی ہیں کہ ریاست قومی سلامتی، فوجداری تحقیقات یا دوسرے جائز قانونی مقاصد کے لیے سفر پر پابندی عائد کر سکتی ہے، لیکن ایسی پابندی قانون کے مطابق، معقول بنیاد پر اور مناسب طریقہ کار کے تحت ہونی چاہیے۔ موجودہ فیصلے میں بھی اختیار کے استعمال اور قانونی جواب دہی کے اسی پہلو کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

عدالتی فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت یا ریاستی ادارے کسی بھی حالت میں شہری کے سفر کو محدود نہیں کر سکتے۔ اگر کسی دوسرے قانون، عدالتی حکم یا باقاعدہ قانونی اختیار کے تحت پابندی کا جواز موجود ہو تو متعلقہ کارروائی الگ قانونی دائرے میں آ سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے اس مخصوص قاعدے میں موجود اس انتظام پر اعتراض کیا جس میں ادارہ جاتی سفارش کو واضح قانونی safeguards کے بغیر مؤثر سفری پابندی کی بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔

اس فیصلے کے عملی اثرات پاسپورٹ حکام، وزارت داخلہ اور ان اداروں تک پہنچ سکتے ہیں جو مختلف تحقیقات یا انتظامی معاملات میں شہریوں کے سفر سے متعلق سفارشات دیتے ہیں۔ حکومت کے پاس عدالتی فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا قواعد میں ترمیم کے راستے موجود ہو سکتے ہیں، تاہم جب تک کوئی مختلف عدالتی یا قانونی پیش رفت سامنے نہیں آتی، موجودہ فیصلہ اس مخصوص شق کی آئینی حیثیت کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا واضح مؤقف ہے۔