اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں ہونے والی آتشزدگی کے معاملے میں ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق درخواست مسترد کرنے والا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو مکمل ریکارڈ اور واقعے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق درخواست پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں 26 اگست 2026 کو پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے تناظر میں دائر کی گئی ہے۔ عدالتی کارروائی کا موجودہ مرحلہ کسی فرد یا ادارے کے خلاف مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہے؛ ہائی کورٹ نے فی الحال ماتحت فورم کے حکم کو معطل کرکے ریکارڈ اور سرکاری جواب طلب کیا ہے تاکہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا جائزہ لیا جا سکے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ واقعے سے متعلق دستیاب مواد اور انکوائری کی جانچ کی جائے اور اگر ریکارڈ میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو وفاقی تحقیقاتی ادارے سے کارروائی کرائی جائے۔ درخواست میں سرکاری ہسپتالوں میں پرانی یا مدت پوری کر چکی برقی وائرنگ کی تبدیلی، نوزائیدہ یونٹس کے انتظام اور مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تعمیر سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے مؤقف کا حصہ ہیں اور ان پر عدالت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
عدالت نے کابینہ سیکریٹری، وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ، وزارت قومی صحت، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، ضلعی انتظامیہ، سی ڈی اے، پمز انتظامیہ، اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے سمیت متعدد متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ اس وسیع دائرہ کار کا مقصد واقعے، حفاظتی انتظامات اور بعد کی سرکاری کارروائی سے متعلق ریکارڈ عدالت کے سامنے لانا ہے۔
پمز وفاقی دارالحکومت کا بڑا سرکاری تدریسی ہسپتال ہے، اس لیے آتشزدگی جیسے واقعے میں مریضوں، خصوصاً نوزائیدہ بچوں کی حفاظت اور ہسپتال کے برقی و ہنگامی حفاظتی نظام سے متعلق سوالات عوامی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم ذمہ داری یا غفلت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ عدالتی اور تفتیشی عمل مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ کیس کی آئندہ سماعت 12 نومبر مقرر کی گئی ہے، جب متعلقہ فریقوں کے جوابات اور مطلوبہ ریکارڈ عدالت کے سامنے آنے کی توقع ہے۔
