اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں نومولود بچوں کی نرسری میں ہونے والی مہلک آتشزدگی کے معاملے میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست مسترد کرنے والے جسٹس آف پیس کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے مکمل ریکارڈ اور انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم آفس سمیت فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں 26 اگست کو لگنے والی آگ میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی، عملے کی ذمہ داری اور انتظامی نگرانی سے متعلق سنگین سوالات اٹھے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 28 اگست کو مبینہ غفلت پر پمز کے آٹھ اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے دی جیورسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کی جانب سے وکیل ریاض حنیف راہی کے ذریعے دائر درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ تمام رپورٹس اور شواہد طلب کیے جائیں گے اور اگر غفلت سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ یہ عدالتی مشاہدہ حتمی ذمہ داری کے تعین کے مترادف نہیں بلکہ زیر سماعت درخواست کے تناظر میں ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ واقعے میں اموات کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ وارڈ میں حفاظتی انتظامات اور عملے کی موجودگی سے متعلق سنگین کوتاہیاں تھیں۔ ان الزامات اور ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی ہوگا۔

عدالت نے حکام کو انکوائری رپورٹس سمیت مکمل ریکارڈ اگلی سماعت پر پیش کرنے اور تمام دستیاب شواہد ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ درخواست میں متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور سرکاری طبی اداروں کے حفاظتی و انتظامی معاملات سے متعلق مزید استدعائیں بھی کی گئی ہیں۔ کیس کی اگلی سماعت 12 نومبر مقرر کی گئی ہے۔