لاہور: دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، بھتہ خوری اور جنسی حملے کے مقدمے میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کے سامنے نامکمل تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ ڈان کے مطابق پولیس رپورٹ میں پانچ ملزمان کے خلاف جنسی حملے کے شواہد نہ ملنے کا مؤقف اختیار کیا گیا، تاہم ان میں سے بعض کو غیر قانونی حراست اور بھتہ خوری سمیت دوسرے مبینہ جرائم سے جوڑا گیا ہے۔ تین دیگر ملزمان پر خواتین کے ساتھ جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ جولائی میں لاہور کے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی اغوا برائے تاوان، ریپ، شواہد مٹانے، مغوی کو چھپانے یا غیر قانونی حراست میں رکھنے اور جسمانی نقصان سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں شکایت کنندگان کا ایک مرکزی ملزم سے مالی لین دین اور کرپٹو کرنسی کاروبار کے سلسلے میں سابقہ رابطہ تھا۔ بعد میں انہیں سرمایہ کاری سے متعلق ملاقات کے بہانے پاکستان بلانے اور لاہور میں ایک گھر میں روکنے کے الزامات سامنے آئے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خواتین پر رقم کی ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور ان سے تقریباً 19,500 ڈالر منتقل کرائے گئے۔ شکایت کنندگان نے مسلح افراد کی نگرانی، دھمکیوں اور تشدد کے خدشات سے متعلق بیانات بھی دیے۔ یہ تمام نکات پولیس کی تحقیقات اور شکایت کنندگان کے الزامات کا حصہ ہیں؛ عدالت نے ابھی ملزمان کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

پولیس کے مطابق طبی معائنے کیے گئے، مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ ہوئے اور ڈی این اے، فنگر پرنٹ، پولی گراف اور کال ڈیٹا سے متعلق کارروائی بھی کی گئی۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی بعض رپورٹس کا انتظار ہونے کی وجہ سے چالان کو نامکمل قرار دیا گیا ہے۔ دفاعی وکیل نے تحقیقات پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے مؤکلوں کو قربانی کا بکرا بنانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کی پولیس یا عدالت کی جانب سے حتمی توثیق نہیں ہوئی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رفاقت علی گوندل کی عدالت ملزمان کو رپورٹ کی نقول فراہم کر چکی ہے اور اگلی سماعت 11 نومبر مقرر ہے۔ آئندہ فرانزک نتائج اور عدالتی کارروائی یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ کن الزامات پر باقاعدہ ٹرائل آگے بڑھتا ہے۔