اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے یا سڑکیں بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق عدالت کے لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف دائر درخواست نمٹاتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔
لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کی، جبکہ جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی بینچ کا حصہ تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں احتجاج کے دوران شہریوں کے آمد و رفت کے حق اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں سے متعلق واضح ہدایات جاری کیں۔
عدالت نے تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج میں سرکاری وسائل اور مشینری استعمال نہ ہونے دی جائے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی سرکاری اہلکار ایسی ہدایت پر عمل نہ کرے جس کے ذریعے اسے زبردستی کسی احتجاج یا ریلی میں شریک ہونے پر مجبور کیا جائے۔ اگر کسی اہلکار پر دباؤ ڈالا جائے تو اسے فوری طور پر متعلقہ چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا انسپکٹر جنرل پولیس کو آگاہ کرنا ہوگا۔
ہائیکورٹ نے چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل پولیس کو اس مقصد کے لیے فوری ہیلپ لائن قائم کرنے کا حکم بھی دیا۔ اس ہدایت کا مقصد سرکاری ملازمین کو ممکنہ دباؤ یا سیاسی استعمال کے بارے میں شکایت درج کرانے کا باضابطہ راستہ فراہم کرنا ہے۔
یہ عدالتی حکم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سیاسی احتجاج اور دارالحکومت کی طرف مارچ کے اعلانات کے باعث سڑکوں کی بندش، شہری نقل و حرکت اور ریاستی وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ عدالت نے کسی مخصوص احتجاج کے سیاسی مقاصد پر فیصلہ دینے کے بجائے قانونی حدود اور انتظامی ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے۔
فیصلے کے بعد انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ احتجاج کے حق اور شہریوں کے آزادانہ آمد و رفت کے حق کے درمیان قانون کے مطابق توازن برقرار رکھا جائے۔ کسی ممکنہ خلاف ورزی، توہین عدالت یا نفاذ سے متعلق مزید کارروائی کا انحصار آئندہ حالات اور متعلقہ حکام کے اقدامات پر ہوگا۔
