لاہور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران انہیں حکام نے ’اغوا‘ کیا اور بعد میں سڑک کنارے چھوڑ دیا، تاہم پنجاب حکومت نے اس الزام کی واضح تردید کی ہے۔ معاملے سے متعلق سامنے آنے والے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے واقعے کی نوعیت کے بارے میں فریقین کے دعووں کو الگ الگ بیان کیا جا رہا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں لے جانے کے بعد جب حکام پر دباؤ بڑھا تو انہیں سکیورٹی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے اسے ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے بھی پنجاب پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کو ان کے سکیورٹی عملے سے الگ کیا گیا۔ یہ الزامات آزادانہ عدالتی یا تفتیشی نتیجے کے طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں۔
اسی واقعے کے بارے میں وزیراعلیٰ کے ساتھ موجود ایک سینئر خیبرپختونخوا سرکاری اہلکار نے جیو نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی پارٹی کارکنوں کی رہائی یقینی بنانے کی کوشش میں پولیس وین میں سوار ہوئے تھے۔ اہلکار کے مطابق بعض کارکن رہا ہو گئے لیکن کچھ وین میں موجود رہے، جس پر وزیراعلیٰ بھی باہر نہیں آئے؛ بعد میں پولیس گاڑی وہاں سے چلی اور کچھ فاصلے پر انہیں اتار دیا گیا۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اغوا یا گرفتاری کے دعوے کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اپنی مرضی سے پولیس گاڑی میں گئے تھے۔ انہوں نے ایسی ویڈیو فوٹیج کا حوالہ بھی دیا جس میں وزیراعلیٰ کو پولیس گاڑی کی طرف جاتے اور اندر سوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا اور واقعے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
یہ تنازع سہیل آفریدی کے لاہور دورے اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں سیاسی متحرک سازی کے دوران سامنے آیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران پنجاب حکومت پر سیاسی انتقام اور پارٹی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات بھی لگائے۔ دوسری جانب پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات پر عارضی پابندیاں نافذ ہیں، جن کے لیے صوبائی حکومت نے سکیورٹی خدشات کو وجہ بتایا ہے۔
دستیاب معلومات میں فریقین کے بیانات میں نمایاں تضاد موجود ہے۔ کسی غیر جانب دار سرکاری انکوائری یا عدالتی فیصلے کی عدم موجودگی میں یہ کہنا ممکن نہیں کہ ’اغوا‘ کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔ خبر کا تصدیق شدہ پہلو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پولیس گاڑی میں موجود رہے، بعد میں گاڑی سے باہر آئے، اور اس واقعے پر خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں نے متضاد مؤقف اختیار کیے۔

