اسلام آباد: پاکستان میں ادویات لکھنے کے طریقہ کار سے متعلق ایک نئے اسکوپنگ ریویو نے عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ معیارات سے مسلسل انحراف کی نشاندہی کی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے محققین کی تحقیق 11 ستمبر 2026 کو جرنل Discover Public Health میں شائع ہوئی۔ اس جائزے نے 2013 سے 2024 کے دوران پاکستان میں کیے گئے 15 مطالعات کو یکجا کر کے عالمی ادارۂ صحت اور International Network for Rational Use of Drugs کے پانچ بنیادی اشاریوں کے مطابق نتائج کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق شامل مطالعات میں فی نسخہ ادویات کی غیر وزنی اوسط 4.2 رہی، جبکہ WHO/INRUD کے طریقہ کار میں بہترین حد 1.6 سے 1.8 ادویات فی نسخہ بتائی گئی ہے۔ محققین کے مطابق تمام 15 مطالعات میں یہ اوسط تجویز کردہ حد سے زیادہ تھی۔ مختلف مراکز میں نتائج میں نمایاں فرق بھی سامنے آیا اور بعض ہسپتالوں میں فی نسخہ ادویات کی اوسط اس سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

جنیرک نام سے دوا لکھنے کا اوسط تناسب 24.93 فیصد پایا گیا، جبکہ جائزے میں استعمال کیے گئے WHO معیار کے مطابق ہدف 100 فیصد ہے۔ اسی طرح کم از کم ایک اینٹی بایوٹک رکھنے والے نسخوں کا اوسط تناسب 45.01 فیصد تھا، جو 20 سے 26.8 فیصد کی تجویز کردہ حد سے زیادہ ہے۔ انجیکشن کے استعمال کا اوسط 27.34 فیصد ریکارڈ ہوا، جبکہ ضروری ادویات کی قومی فہرست سے منتخب ادویات کا تناسب 72.20 فیصد رہا۔

یہ اعداد کسی ایک موجودہ سال کے قومی سروے سے حاصل نہیں ہوئے بلکہ 2013 سے 2024 تک شائع ہونے والی مختلف تحقیقات کا اسکوپنگ ریویو ہیں۔ اس لیے انہیں پاکستان کے ہر ڈاکٹر یا ہر ہسپتال کے موجودہ نسخوں پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ مختلف صوبوں اور مختلف سطحوں کے طبی مراکز میں ایک جیسا رجحان سامنے آنا نظامی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق تحقیق کے شریک مصنف اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک شہر یا ہسپتال تک محدود نہیں دکھائی دیتا۔ تحقیق میں ادویات کی غیر ضروری کثرت، اینٹی بایوٹک کے زیادہ استعمال اور جنیرک ناموں کے کم استعمال کو مریضوں کے اخراجات، مضر اثرات، دواؤں کے باہمی تعامل اور antimicrobial resistance کے خطرات سے جوڑا گیا ہے۔

ریویو کے مصنفین نے جنیرک ادویات لکھنے کے قواعد کے مؤثر نفاذ، اینٹی مائیکروبیل اسٹیورڈشپ پروگراموں، نسخوں کے باقاعدہ آڈٹ اور ڈاکٹرز کو فیڈبیک دینے کے نظام کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری اداروں، ہسپتالوں، پیشہ ور تنظیموں اور عوامی آگاہی کے درمیان مربوط کارروائی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔

اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اینٹی بایوٹک مزاحمت پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتا ہوا صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ تاہم مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے تازہ، قومی سطح پر نمائندہ نسخہ ڈیٹا جمع کرنا بھی ضروری ہوگا تاکہ موجودہ صورتحال اور مختلف صوبوں یا شعبوں کے فرق کو زیادہ درست طور پر جانچا جا سکے۔