اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 24 رہنماؤں اور قانون سازوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت کی کہ متعلقہ افراد کے پاسپورٹ تاحکم ثانی بلاک رکھے جائیں۔

جیو نیوز کے مطابق مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ہے اور اس کا تعلق 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات سے ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تفتیشی افسر کی درخواست پر حکم جاری کیا۔ پولیس نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ نامزد افراد ملک سے باہر جا کر عدالتی کارروائی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ پولیس کا مؤقف اور مقدمے میں لگائے گئے الزامات ہیں؛ عدالت کے حالیہ حکم کو کسی ملزم کے خلاف حتمی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالتی ریکارڈ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ متعدد نامزد افراد پیش نہیں ہوئے جبکہ کچھ ایسے افراد جنہوں نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی، مبینہ طور پر تفتیش میں شامل نہیں ہوئے۔ عدالت نے دستیاب ریکارڈ اور تفتیشی افسر کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ایف آئی اے کو پاسپورٹ بلاک کرنے کی ہدایت دی۔ حکم کی نوعیت احتیاطی اور عبوری ہے اور یہ مزید عدالتی احکامات تک نافذ رہے گا۔

جن نمایاں رہنماؤں کا نام حکم میں شامل بتایا گیا ہے ان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عمر ایوب، جنید اکبر اور دیگر شامل ہیں۔ دنیا نیوز کے مطابق پولیس نے عدالت کو بتایا کہ بعض ملزمان مسلسل غیر حاضر رہے ہیں اور کچھ نے ضمانت کے باوجود تفتیشی عمل میں مطلوبہ شرکت نہیں کی۔

26 نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مختلف مقدمات میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف الگ الگ قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان مقدمات میں عائد الزامات، ضمانتوں اور عدالتی احکامات کی نوعیت ہر کیس میں مختلف ہے، اس لیے موجودہ پاسپورٹ بلاک کرنے کے حکم کو صرف اسی مخصوص مقدمے اور عدالت کی کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

پاسپورٹ بلاک ہونے کے نتیجے میں متعلقہ افراد کی بیرون ملک سفر کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ان کے پاس قانونی چارہ جوئی، متعلقہ فورم سے حکم پر نظرثانی یا مناسب ریلیف کی درخواست دینے کے راستے موجود رہتے ہیں۔ آئندہ سماعتوں میں عدالت تفتیش میں شرکت، حاضری اور مقدمے کی پیش رفت سے متعلق مزید احکامات جاری کر سکتی ہے۔