اسلام آباد: پاکستان میں پہلی بار جاری کیے گئے نیشنل سٹیزن سروے 2026 میں بڑھتا ہوا قومی قرض، بجلی و گیس کے اخراجات، روزمرہ اشیا کی مہنگائی اور بے روزگاری شہریوں کی نمایاں تشویش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سروے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پِلڈاٹ) کے زیر اہتمام ایک سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل میں جاری کیا گیا، جبکہ فیلڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پور) نے آزادانہ طور پر کی۔
ڈان کے مطابق سروے میں 5,155 افراد سے 23 اگست سے 5 ستمبر 2026 کے درمیان گھروں میں روبرو انٹرویوز کیے گئے۔ چار مرحلوں پر مشتمل stratified sample میں چاروں صوبوں، دیہی اور شہری علاقوں، مختلف عمر، صنف اور آمدنی کے گروپوں کو شامل کیا گیا۔ نمونے میں 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری جواب دہندگان شامل تھے۔ یہ نتائج رائے عامہ کی پیمائش ہیں، اس لیے انہیں معاشی اعداد و شمار یا کسی سرکاری کارکردگی کے حتمی پیمانے کے طور پر نہیں بلکہ شہری ترجیحات اور تاثرات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
نتائج کے مطابق 66 فیصد جواب دہندگان نے پاکستان کے بڑھتے قومی قرض کو سنگین تشویش قرار دیا، جن میں 49 فیصد نے اسے انتہائی تشویشناک کہا۔ دوسری جانب 19 فیصد نے بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، جو کسی ایک مسئلے کے لیے سب سے زیادہ تناسب تھا۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بھی نمایاں تشویش کے طور پر سامنے آیا جبکہ بے روزگاری تیسرے بڑے مسئلے کے طور پر رپورٹ ہوئی۔
سروے نے شہری ترجیحات اور وفاقی بجٹ کے ڈھانچے کے درمیان فرق پر بھی توجہ دلائی۔ رپورٹ کے مطابق 18.771 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کا 42.9 فیصد قرضوں کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ وفاقی سطح پر صحت کے لیے حصہ بہت کم ہے۔ محققین نے کہا کہ ترجیحات کا یہ فرق صوبوں، شہری و دیہی علاقوں اور مختلف آمدنی و عمر کے گروپوں میں مجموعی طور پر دکھائی دیا۔ بجٹ کے اعداد متعلقہ مالی دستاویزات پر مبنی ہیں، جبکہ شہری تشویش سروے کے جواب دہندگان کی رائے ہے۔
معاشی ماحول سے متعلق 91 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنا یا چلانا مشکل ہے، اور ٹیکس کو سب سے بڑی رکاوٹوں میں شمار کیا گیا۔ 68 فیصد نے آئی ایم ایف پروگرام کو عام عوام کے لیے نقصان دہ یا بے فائدہ قرار دیا، جبکہ 60 فیصد نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام جدید معیشت کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ یہ آرا پالیسیوں کے اثرات کے بارے میں جواب دہندگان کے تاثرات ہیں اور کسی ادارے کی جانب سے ان دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں۔
اداروں پر اعتماد سے متعلق نتائج میں کسی ایک عوامی ادارے کو جواب دہندگان کی اکثریت کا مکمل اعتماد حاصل نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ پر مکمل اعتماد ظاہر کرنے والوں کا تناسب 15 فیصد اور ریونیو نظام پر 13 فیصد تھا، جبکہ ایف آئی اے اور نیب کے لیے مکمل اعتماد کا تناسب بالترتیب 33 اور 23 فیصد رپورٹ ہوا۔ 18 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں کسی سرکاری اہلکار نے ان سے رشوت مانگی، جبکہ 79 فیصد نے منشیات کے بڑھتے استعمال کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔
میڈیا کے استعمال سے متعلق سروے میں 42 فیصد نے خبروں کے لیے ٹیلی ویژن کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 56 فیصد نے انٹرنیٹ کو سماجی اقدار میں کمی سے جوڑا۔ پِلڈاٹ اور آئی پور نے نتائج کو شہری ترجیحات پر پالیسی گفتگو کا نقطۂ آغاز قرار دیا۔ سروے کی قدر اس بات میں ہے کہ یہ مختلف علاقوں اور سماجی گروپوں کی رائے ایک مشترکہ فریم میں سامنے لاتا ہے، تاہم پالیسی فیصلوں کے لیے اسے سرکاری معاشی و سماجی ڈیٹا اور دیگر آزاد مطالعات کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہوگا۔
