اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیچلر آف ڈینٹل سرجری کی مدت پانچ سال کرنے سے متعلق اپنا سابقہ فیصلہ واپس لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ڈی ایس پروگرام چار سالہ ہی برقرار رہے گا، جس کے بعد ایک سال کا ہاؤس جاب مرحلہ ہوگا۔ یہ پیش رفت 14 ستمبر 2026 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے اجلاس میں سامنے آئی۔

سینیٹ کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے اپنی 20 اگست کی سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے دوبارہ واضح کیا کہ بی ڈی ایس ڈگری چار سال پر مشتمل ہونی چاہیے اور اس کے بعد ایک سال کا ہاؤس جاب رکھا جائے، نہ کہ پانچ سالہ تعلیمی پروگرام کے بعد مزید ایک سال کی تربیت۔ پی ایم ڈی سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پانچ سالہ مدت سے متعلق سابقہ نوٹیفکیشن واپس لیا جا چکا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق قائمہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ چار سالہ بی ڈی ایس پروگرام کی مدت کو باقاعدہ طور پر واضح کرنے کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کرے، تاکہ طلبہ، والدین، یونیورسٹیوں اور ڈینٹل کالجوں کے لیے کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

پی ایم ڈی سی نے نومبر 2024 میں بی ڈی ایس پروگرام کو چار سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کونسل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اضافی سال سے پاکستانی ڈینٹل تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے قریب لانے، کلینیکل تربیت بڑھانے اور بیرون ملک پاکستانی گریجویٹس کی ڈگری کی قبولیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ بعد ازاں نفاذ کے حوالے سے مختلف اداروں نے انفراسٹرکچر، فیکلٹی اور اضافی تعلیمی اخراجات سے متعلق تحفظات ظاہر کیے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اگست 2026 میں اس معاملے پر تفصیلی غور کے بعد چار سالہ پروگرام برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ڈینٹل تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صرف پروگرام کی مدت بڑھانا کافی نہیں، بلکہ نصاب، کلینیکل ٹریننگ، تدریسی معیار اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کو بھی بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

14 ستمبر کے اجلاس میں پی ایم ڈی سی کی جانب سے سابقہ نوٹیفکیشن واپس لینے کی اطلاع اس سفارش پر عملی پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم طلبہ اور اداروں کے لیے عملی انتظامات، موجودہ بیچز پر اطلاق اور یونیورسٹی سطح پر نصاب و امتحانی ڈھانچے کی تفصیلات متعلقہ باضابطہ نوٹیفکیشن اور ریگولیٹری ہدایات کے مطابق طے ہوں گی۔

موجودہ پیش رفت کا فوری اثر یہ ہے کہ قومی سطح پر بی ڈی ایس کی بنیادی مدت کے بارے میں پالیسی سمت دوبارہ چار سالہ پروگرام کی طرف واضح ہو گئی ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی سے رسمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کو کہا ہے تاکہ ریگولیٹر اور تعلیمی اداروں کے درمیان یکساں پالیسی نافذ کی جا سکے۔