اسلام آباد: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے میڈیکل اور ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) میں شرکت کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کی تعداد میں مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیدواروں کی تعداد 2022 میں 204,253 تھی، جو 2026 میں تقریباً 138,000 رہ گئی ہے۔
پی ایم اے کے مطابق 2021 میں 194,133 امیدوار تھے اور 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر 204,253 ہوئی، مگر اس کے بعد کمی کا رجحان نمایاں ہوا۔ 2023 میں 180,534، 2024 میں تقریباً 182,000 اور 2025 میں 140,071 امیدوار سامنے آئے۔ رواں سال رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کے باوجود صرف 2,063 مزید امیدوار شامل ہوئے اور مجموعی تعداد 138,000 سے کچھ زیادہ رہی۔
تنظیم نے اس رجحان کو محض انتظامی تاخیر یا رجسٹریشن کے مسائل کے بجائے طب کو پیشہ بنانے میں نوجوانوں کی دلچسپی میں ساختی کمی قرار دیا ہے۔ پی ایم اے نے نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی بڑھتی فیس، نوجوان ڈاکٹروں کے محدود مالی امکانات، ہاؤس جاب وظیفوں میں تاخیر، تنخواہ دار پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی کی کمی اور سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کے خلاف تشدد جیسے عوامل کا حوالہ دیا۔
پی ایم اے نے یہ بھی کہا کہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی اور ہیلتھ ڈیٹا اینالیٹکس جیسے شعبے بہتر ابتدائی تنخواہوں، ترقی کے مواقع اور بین الاقوامی امکانات کے باعث طلبہ کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تنظیم کا تجزیہ ہے، جبکہ امیدواروں کی کمی کی وجوہات پر کوئی الگ سرکاری تحقیقی رپورٹ اس خبر میں شامل نہیں کی گئی۔
پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے وفاقی اور صوبائی صحت حکام اور پی ایم ڈی سی پر زور دیا کہ وہ داخلہ معیار کم کرنے کے بجائے بنیادی معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل حل کریں۔ تنظیم نے نجی کالج فیس کی حد بندی، وظیفوں کی بروقت ادائیگی، مستقل میڈیکل افسر کی آسامیوں اور طبی عملے کے تحفظ سے متعلق وفاقی قانون کی ضرورت بھی بیان کی۔
پی ایم اے نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ انتباہ تنظیم کی پیشہ ورانہ رائے ہے؛ ملک میں مستقبل کی ڈاکٹر کمی کی مقدار یا مدت کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری پیش گوئی اس مرحلے پر سامنے نہیں آئی۔
