اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں آتش زدگی کے واقعے سے متعلق عدالتی تحقیقات کی درخواست پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے شہری منیر احمد کی درخواست کو اسی معاملے سے متعلق پہلے سے زیرِ سماعت مقدمے کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم بھی دیا۔ یہ کارروائی ابتدائی عدالتی سماعت اور معلومات طلب کرنے تک محدود ہے؛ عدالت نے اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا اور نہ ہی عدالتی انکوائری کا حتمی حکم جاری کیا۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے، جبکہ وفاقی حکومت کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل آصف جادون نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کے بعد ایک رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے حکومت سے وہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے اور اس کی بنیاد پر کیے گئے اقدامات کی الگ تفصیل، یعنی ایکشن ٹیکن رپورٹ، جمع کرانے کو کہا۔
سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی جانب سے پمز سے متعلق گزشتہ سال تیار کی گئی رپورٹ پر اب تک کیا کارروائی ہوئی۔ عدالت نے وفاقی حکام سے اس رپورٹ کے مندرجات، سفارشات اور ان پر عمل درآمد کی صورتِ حال واضح کرنے کو کہا۔ دستیاب عدالتی کارروائی میں کمیٹی کی پوری رپورٹ یا اس کے تمام نتائج بیان نہیں کیے گئے، اس لیے کسی مخصوص سفارش کو حتمی عدالتی یافت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آتش زدگی کے اسباب، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ انتظامی غفلت کی غیر جانب دارانہ چھان بین ضروری ہے۔ ان کے وکیل نے عدالتی انکوائری کی استدعا کی، تاہم عدالت نے فوری طور پر اس استدعا کو منظور یا مسترد کرنے کے بجائے پہلے سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ اداروں کا جواب حاصل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ درخواست کو زیرِ التوا مقدمے کے ساتھ یکجا کرنے کا مقصد ایک ہی واقعے سے متعلق مواد اور دلائل کو مشترکہ طور پر سننا ہے۔
عدالت کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے سے وفاقی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ واقعے کے بعد تیار کردہ دستاویز، وزیراعظم کو دی گئی معلومات اور کیے گئے انتظامی یا تادیبی اقدامات واضح کرے۔ اس حکم سے خود بخود کسی افسر کے خلاف جرم، غفلت یا بدانتظامی ثابت نہیں ہوتی۔ ذمہ داری کا کوئی حتمی تعین شواہد، سرکاری جواب اور بعد کی سماعت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
مقدمے کی اگلی پیش رفت حکومت کے تحریری جواب اور طلب کردہ ریکارڈ جمع ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ فی الحال مصدقہ عدالتی پیش رفت یہی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کو پہلے سے جاری مقدمے کے ساتھ جوڑا، وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب مانگا اور پمز واقعے و قائمہ کمیٹی کی رپورٹوں پر کیے گئے اقدامات کی دستاویزی وضاحت طلب کی ہے۔




