اسلام آباد: انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ نے سکیورٹی بریچ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ دونوں کی جانب سے دائر اپیلوں میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور انہیں بری کرنے کی استدعا کی گئی ہے، جبکہ الگ درخواستوں میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک سزاؤں کی معطلی اور ضمانت پر رہائی مانگی گئی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اپیلیں وکلا فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ کے ذریعے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 25 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 410 کے تحت دائر کی گئیں۔ 29 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی بریچ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186 کے تحت ایک، ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جبکہ دفعہ 353 کے تحت دو، دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اپیل کنندگان نے ہائی کورٹ کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کے دوران منصفانہ سماعت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ فرد جرم عائد کرنے سے پہلے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-C کے تحت ضروری نقول فراہم نہیں کی گئیں اور ملزمان کی غیر موجودگی میں ان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کا بیان درج کیا گیا۔ اپیلوں میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ استغاثہ کے شواہد ملزمان اور ان کے وکلا کی غیر موجودگی میں قلم بند کیے گئے، جسے درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 10-A اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ تمام نکات اپیل کنندگان کے دعوے ہیں جن پر ہائی کورٹ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
درخواستوں میں جیل ٹرائل کے طریقہ کار، وکیل سے خفیہ مشاورت کے حق اور سرکاری وکیل مقرر کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ اپیل کنندگان نے مزید کہا ہے کہ مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست زیر التوا ہونے کے باوجود ٹرائل جاری رکھا گیا۔ میرٹ پر ان کا مؤقف ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت سزا کے لیے درکار عناصر استغاثہ ثابت نہیں کر سکا۔
ہائی کورٹ میں دائر اپیل کا مطلب سزا کا خودکار خاتمہ نہیں ہوتا؛ اب عدالت ریکارڈ، قانونی اعتراضات اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لے گی۔ اسی طرح سزا کی معطلی اور ضمانت کی درخواستیں بھی الگ عدالتی فیصلے کی متقاضی ہیں۔ اس مرحلے پر 29 اکتوبر کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور اسے اعلیٰ عدالت میں قانونی طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔
