پاکستان اور تاجکستان کی اسپیشل فورسز کی مشترکہ انسداد دہشت گردی مشق دوستی سوم چیرات میں اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ سرکاری فوجی معلومات کے مطابق دو ہفتے جاری رہنے والی اس مشق میں دونوں ملکوں کے خصوصی دستوں نے انسداد دہشت گردی سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتوں، حکمت عملی اور مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق مشق میں پاکستان آرمی اور تاجکستان کی اسپیشل فورسز کے دستوں نے حصہ لیا۔ تربیتی سرگرمیوں کا مقصد ایسے آپریشنل حالات میں باہمی ہم آہنگی بڑھانا تھا جہاں مختلف فورسز کو ایک دوسرے کے طریقہ کار، رابطے اور زمینی حکمت عملی سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں عموماً تجربات کے تبادلے اور عملی تربیت کے ذریعے ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

اختتامی تقریب چیرات میں منعقد ہوئی جہاں متعلقہ فوجی حکام نے تربیتی سرگرمیوں اور مشق کے مقاصد کا جائزہ لیا۔ دوستی سیریز پاکستان اور تاجکستان کے دفاعی تعاون کا حصہ ہے اور اس کا مرکز انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مشترکہ تربیت ہے۔ وسطی اور جنوبی ایشیا میں دہشت گردی اور سرحد پار شدت پسندی کے خدشات کے باعث اس نوعیت کی تربیت دونوں ملکوں کے لیے عملی اہمیت رکھتی ہے۔

مشق کے دوران شریک اہلکاروں نے انسداد دہشت گردی کے مختلف حربوں اور عملی طریقہ کار پر تربیت حاصل کی۔ سرکاری بیان میں کسی حقیقی آپریشن یا مخصوص سکیورٹی واقعے سے اس مشق کو منسلک نہیں کیا گیا، اس لیے اسے باقاعدہ مشترکہ تربیتی سرگرمی کے طور پر دیکھنا درست ہوگا۔ اس کا مقصد جنگی کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ صلاحیت سازی، تجربے کے تبادلے اور باہمی تعاون میں بہتری ہے۔

پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دفاعی روابط وسیع علاقائی سکیورٹی تعاون کا ایک جزو ہیں۔ دوستی سوم کی تکمیل سے دونوں افواج کے خصوصی دستوں کو ایک دوسرے کے آپریشنل طریقوں سے واقفیت اور مشترکہ تربیت کا موقع ملا ہے۔ آئندہ ایسی مشقوں کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی اور دفاعی تربیت میں تعاون کو کس سطح تک مزید ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں۔