اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے انسداد دہشت گردی، منظم جرائم، غیر قانونی امیگریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان عملی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری معلومات کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں جاری رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور سرحد پار منظم جرائم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس، تربیت، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی رابطوں کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ ملاقات میں کسی نئے باضابطہ دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ تعاون کو وسعت دینے پر بات ہوئی۔

غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ بھی گفتگو کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں انسانی اسمگلروں اور غیر قانونی سفری نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ برطانیہ بھی غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کو اپنی داخلی پالیسی کی اہم ترجیح قرار دیتا ہے۔ دونوں جانب سے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور قانونی طریقہ کار کے تحت تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور سکیورٹی و قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں اشتراک کو مزید نتیجہ خیز بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ عملی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے دونوں ممالک کے تعلقات اور سکیورٹی شعبے میں تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تربیتی اور تکنیکی رابطوں کو جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سکیورٹی تعاون کئی شعبوں پر محیط ہے، جن میں دہشت گردی کی روک تھام، جرائم کی تحقیقات، سرحد پار جرائم اور امیگریشن سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ تازہ ملاقات میں طے پانے والے نکات بنیادی طور پر سیاسی اور انتظامی سطح کے اتفاقات ہیں؛ ان کے عملی نتائج آئندہ ادارہ جاتی رابطوں، مشترکہ اقدامات اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے سامنے آئیں گے۔