واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت 2026 میں تقریباً تین فیصد شرح نمو حاصل کرنے کی راہ پر ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ، بلند توانائی قیمتوں اور بڑھتے قرض کے باعث خطرات بدستور نمایاں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے معمول کی بریفنگ میں عالمی اقتصادی صورتحال پر تازہ جائزہ پیش کیا۔
کوزیک نے کہا کہ چھ ماہ سے جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود عالمی معیشت اب تک نسبتاً مضبوط رہی ہے۔ بعض ممالک نے تیل اور گیس کے ذخائر استعمال کر کے توانائی کے جھٹکے کو جذب کیا، جبکہ کچھ نے متبادل توانائی ذرائع کی طرف رخ کیا یا طلب میں کمی کے اقدامات کیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تیل اور گیس کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں اور توانائی کا جھٹکا ختم نہیں ہوا۔
آئی ایم ایف کے مطابق عالمی سطح پر مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن طویل مدت کے لیے یہ اب بھی بڑی حد تک قابو میں ہیں۔ اس کے باوجود 2022 کے لاگتِ زندگی کے بحران کے بعد مہنگائی کم ہونے کا عمل سست پڑا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں جو درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔
فنڈ نے عالمی قرض کی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی، جو مجموعی عالمی پیداوار کے تقریباً 100 فیصد کے قریب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بلند قرض اور بعض ترقی پذیر معیشتوں میں مالی وسائل کی محدود دستیابی پالیسی سازوں کے لیے مشکل پیدا کر رہی ہے۔ سردیوں سے پہلے توانائی ذخائر دوبارہ بھرنے کی ضرورت بھی کئی ملکوں پر اضافی مالی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی سرگرمی عالمی نمو کو کچھ مثبت سہارا فراہم کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں کے استحکام، مالی اصلاحات اور پیداواری صلاحیت بڑھانے والی ساختی تبدیلیوں پر توجہ برقرار رکھیں اور ترقی کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کریں۔
آئی ایم ایف اپنی تفصیلی تازہ عالمی اقتصادی پیشگوئیاں 12 سے 18 اکتوبر کو بنکاک میں ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران جاری کرے گا۔ موجودہ تین فیصد کا اندازہ اس سے پہلے کی رہنمائی کی توثیق ہے، جبکہ آئندہ رپورٹ میں توانائی، جنگ، پابندیوں اور مالی حالات کے تازہ اثرات کا زیادہ مکمل جائزہ متوقع ہے۔




