اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا مشن 23 ستمبر کو پاکستان کے ساتھ دو اہم پروگراموں کے جائزے کے لیے مذاکرات شروع کرنے والا ہے۔ ڈان کے مطابق مذاکرات میں 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کو بیک وقت آگے بڑھایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق جائزہ بنیادی طور پر 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی مدت میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی، طے شدہ اہداف اور اصلاحاتی اقدامات پر مرکوز ہوگا۔ آئی ایم ایف پروگرام مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، ساختی اصلاحات اور معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے اقدامات سے منسلک ہے، جبکہ آر ایس ایف میں موسمیاتی اور پائیداری سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔
مذاکرات کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بھی اہم موضوع ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے پہلے ششماہی ریونیو بینچ مارک، محصولات میں کمی اور حکومتی اقدامات کا جائزہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ اجناس کی منڈیوں میں سرکاری مداخلت اور گورننس اصلاحات بھی ان امور میں شامل ہیں جن پر آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان تفصیلی بات چیت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے جائزوں کی کامیاب تکمیل اس لیے اہم ہے کہ پروگرام کے تحت آئندہ مالی معاونت اور پالیسی اعتماد کا تعلق طے شدہ شرائط اور کارکردگی کے جائزے سے ہوتا ہے۔ تاہم مشن کی آمد بذات خود کسی نئی قسط کی فوری منظوری نہیں ہوتی؛ پہلے عملے کی سطح پر مذاکرات، اہداف کی جانچ اور ممکنہ طور پر اسٹاف لیول معاہدہ درکار ہوتا ہے، جس کے بعد متعلقہ منظوری کا مرحلہ آتا ہے۔
موجودہ مرحلے میں مذاکرات کے نتائج سے پہلے کسی ممکنہ نئی شرط، ٹیکس اقدام یا قسط کے حجم کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 23 ستمبر سے شروع ہونے والا جائزہ یہ واضح کرے گا کہ جون 2026 تک پاکستان نے مالی، محصولات اور اصلاحاتی اہداف میں کہاں تک پیش رفت کی اور کن شعبوں میں مزید اقدامات درکار ہوں گے۔




