کراچی: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریے (SPI) کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی 8.62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ڈان نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے، خصوصاً پیاز اور پیٹرولیم مصنوعات کے مہنگا ہونے نے مجموعی اشاریے پر نمایاں اثر ڈالا۔
حساس قیمت اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلی کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں خوراک، ایندھن اور گھریلو ضرورت کی متعدد اشیا شامل ہوتی ہیں، اس لیے اس اشاریے میں تیزی کا اثر کم اور متوسط آمدن والے گھرانوں کے بجٹ پر نسبتاً زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کو خوراک اور توانائی دونوں محاذوں پر قیمتوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں اضافہ ہفتہ وار مہنگائی کے نمایاں عوامل میں شامل رہا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی اشاریے کو اوپر لے جانے کا سبب بنیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف براہ راست سفر اور نقل و حمل کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ مال برداری، زرعی سرگرمیوں اور کاروباری لاگت کے ذریعے دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ نے مقامی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ دوسری جانب زرعی اجناس کی رسد، موسمی عوامل اور مقامی منڈیوں میں طلب و رسد کی صورتحال خوراک کی قیمتوں میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ حساس قیمت اشاریے کی ہفتہ وار حرکت اس بات کا فوری اشارہ فراہم کرتی ہے کہ بنیادی اشیا کی قیمتیں کس سمت جا رہی ہیں، تاہم یہ پورے صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں ہے۔
تازہ اعداد و شمار پالیسی سازوں کے لیے بھی اہم ہیں کیونکہ مہنگائی کی رفتار شرح سود، مالیاتی فیصلوں اور عوامی ریلیف اقدامات سے متعلق بحث کو متاثر کرتی ہے۔ موجودہ رپورٹ میں سالانہ SPI مہنگائی 8.62 فیصد بتائی گئی ہے؛ آئندہ رجحان کا انحصار بالخصوص خوراک کی رسد، عالمی اور مقامی ایندھن کی قیمتوں اور روپے سے منسلک درآمدی لاگت پر ہوگا۔




