اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق تازہ علاقائی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی درآمدات اور ترسیلات زر کی رفتار میں ممکنہ اعتدال پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ادارے نے زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے شرح مبادلہ میں مناسب لچک اور مہنگائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے محتاط مالیاتی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ مشاہدات جمعرات کو جاری ہونے والی علاقائی رپورٹ میں کیے۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ بیرونی کھاتوں کی مضبوطی صرف موجودہ ذخائر کی سطح سے نہیں بلکہ درآمدی طلب، برآمدی آمدن، ترسیلات زر اور سرمایہ کے بہاؤ کے مجموعی رجحان سے طے ہوگی۔ اگر درآمدات تیزی سے بڑھیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نمو سست پڑے تو کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کی دستیابی پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے شرح مبادلہ کو معاشی حالات کے مطابق ردعمل دینے کی گنجائش برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔ اس مؤقف کے مطابق روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر ایک سطح پر رکھنے کے بجائے مارکیٹ کے بنیادی عوامل سے ہم آہنگ حرکت کی اجازت دینا ذخائر پر غیر ضروری دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ فنڈ نے مہنگائی کے تناظر میں مانیٹری پالیسی کے محتاط استعمال کی بھی بات کی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ قیمتوں کے دباؤ میں دوبارہ اضافے کی صورت میں مرکزی بینک کے لیے نرمی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔
یہ جائزہ پاکستان کے لیے اس مرحلے پر اہم ہے جب حکومت معاشی استحکام کے بعد نمو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تیز نمو عام طور پر مشینری، توانائی اور دیگر درآمدی اشیا کی طلب بڑھا سکتی ہے، اس لیے پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ ترقی کی رفتار میں اضافے کو بیرونی ادائیگیوں کے نئے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کسی فوری بحران کے اعلان کے بجائے خطرات کی نشاندہی اور پالیسی سفارشات پر مبنی ہے۔ آنے والے مہینوں میں درآمدات، ترسیلات زر، کرنٹ اکاؤنٹ، روپے کی قدر اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے اعدادوشمار یہ واضح کریں گے کہ بیرونی مالی پوزیشن سے متعلق یہ خدشات کس حد تک عملی دباؤ میں تبدیل ہوتے ہیں۔

