اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کے سرکاری ڈونر وار اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے 98 غیر ملکی فنڈڈ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 8.099 کھرب روپے ہے، جس میں چین کے تعاون سے جاری چھ منصوبوں کی مجموعی لاگت 2.539 کھرب روپے بنتی ہے۔ یہ پورے پورٹ فولیو کا تقریباً 31.4 فیصد ہے اور مجموعی لاگت کے لحاظ سے کسی ایک ترقیاتی شراکت دار کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے اعدادوشمار کے مطابق 30 جون 2026 تک چین سے منسلک ان منصوبوں پر تخمینی اخراجات 57.229 ارب روپے تھے، جبکہ باقی یا ’تھرو فارورڈ‘ رقم 2.482 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال میں چین کے تعاون والے منصوبوں کے لیے 31.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 25.829 ارب روپے روپی کور اور 5.872 ارب روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔

انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن لاگت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے نو منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 2.279 کھرب روپے بتائی گئی ہے، جو پورٹ فولیو کا تقریباً 28.1 فیصد بنتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک منصوبوں کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا شراکت دار ہے اور اس کے 31 منصوبوں کی مجموعی لاگت 1.131 کھرب روپے ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک سے منسلک تین منصوبوں کی لاگت 851.969 ارب روپے درج کی گئی ہے۔

سرکاری بیان میں سعودی عرب، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، فرانس، جنوبی کوریا، عالمی بینک، آئی بی آر ڈی، جاپان، امریکا، جرمنی، کویت فنڈ، اٹلی اور یو این ہیبی ٹیٹ سمیت دیگر شراکت داروں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ تمام 98 منصوبوں پر جون 2026 تک تخمینی مجموعی اخراجات 1.981 کھرب روپے جبکہ مجموعی تھرو فارورڈ 5.294 کھرب روپے بتایا گیا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے لیے ان غیر ملکی فنڈڈ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی مختص رقم 345.625 ارب روپے ہے، جس میں 255 ارب روپے روپی کور اور 90.625 ارب روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔ یہ اعدادوشمار پورٹ فولیو کی مالی ساخت دکھاتے ہیں؛ تاہم چین کے چھ منصوبوں کی شعبہ وار تفصیل اس ڈونر وار بیان میں فراہم نہیں کی گئی، اس لیے مجموعی رقم سے کسی مخصوص شعبے یا منصوبے کی پیش رفت اخذ نہیں کی جا سکتی۔