اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں بتایا ہے کہ مین لائن ون کے کراچی سے روہڑی تک تقریباً 480 کلومیٹر حصے کی اپ گریڈیشن کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں جنوری 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے کی تخمینی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے اور حکومت اسے پاکستان کے اہم ریلوے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے منصوبے کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
وزیر ریلوے نے ایوان کو بتایا کہ کراچی-روہڑی سیکشن پر موجودہ پٹڑی اور متعلقہ نظام کی حالت ٹرین آپریشن کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ منصوبے کا مقصد ٹریک کو بہتر بنانا، سفر کی حفاظت میں اضافہ کرنا اور ان تکنیکی مسائل کو کم کرنا ہے جو پٹڑی کی خرابی یا کمزور انفراسٹرکچر کے باعث تاخیر اور حادثات کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
ایم ایل ون پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی مرکزی شہ رگ ہے جو کراچی کو ملک کے بڑے شہری اور صنعتی مراکز کے ذریعے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ کراچی سے روہڑی کا حصہ خاص طور پر مال برداری اور مسافر ٹریفک دونوں کے لیے اہم ہے۔ اسی لیے اس سیکشن کی اپ گریڈیشن کو وسیع تر ایم ایل ون منصوبے میں عملی ترجیح دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے میں نئی پٹڑی اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر کام شامل ہوگا، تاہم تعمیراتی شیڈول، فنانسنگ کی حتمی تفصیلات اور مختلف پیکجز کے ٹھیکوں سے متعلق تمام انتظامی مراحل کی مکمل تفصیل ابھی عوامی طور پر سامنے نہیں آئی۔ جنوری 2027 کی تاریخ وزیر ریلوے کی جانب سے قومی اسمبلی میں بتائی گئی متوقع آغاز کی مدت ہے، اسے مکمل شدہ تعمیراتی سنگ میل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ایم ایل ون کی بحالی طویل عرصے سے پاکستان کے ٹرانسپورٹ ایجنڈے کا حصہ رہی ہے اور اس کے مختلف حصوں، مالیاتی ڈھانچے اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر متعدد مراحل میں غور ہوا ہے۔ کراچی-روہڑی سیکشن پر عملی پیش رفت ریلوے کی مال برداری صلاحیت، مسافر سروس اور قومی لاجسٹکس کے لیے اہم ہوگی، تاہم منصوبے کی کامیابی کا انحصار بروقت مالی بندوبست، خریداری اور تعمیراتی عمل پر رہے گا۔

