اسلام آباد/کراچی: ایران کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے باعث پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں تیز اضافے کی اطلاعات ہیں۔ بزنس ریکارڈر اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایل پی جی تاجروں نے کہا ہے کہ ایران سے آنے والی یومیہ سپلائی رکنے کے بعد مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی، جس کا اثر گھریلو سلنڈر کی قیمتوں پر پڑا ہے۔
مختلف رپورٹس میں 12 کلوگرام کے قریب گھریلو سلنڈر کی قیمت مختلف شہروں اور علاقوں میں 7 ہزار روپے سے کہیں زیادہ بتائی گئی، جبکہ بعض شمالی علاقوں میں انتہائی بلند نرخوں کی شکایات سامنے آئیں۔ یہ نرخ سرکاری مقررہ قیمت نہیں بلکہ مارکیٹ میں تاجروں اور صارفین کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہیں، اس لیے مقام اور دستیابی کے لحاظ سے فرق موجود ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس کی رسائی محدود ہے۔ سرحدی تجارت میں خلل کا اثر ٹرانسپورٹ، گھریلو استعمال اور چھوٹے کاروباروں پر نسبتاً جلد پڑتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ درآمدی سپلائی کے متبادل انتظامات اور مقامی تقسیم بہتر نہ کی گئی تو قلت برقرار رہ سکتی ہے۔
رپورٹس میں صنعت کے نمائندوں نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم کسی بھی ہنگامی درآمد، ذخائر کے اجرا یا قیمت کنٹرول کے نئے انتظام کی حتمی سرکاری تفصیل دستیاب رپورٹوں میں واضح نہیں۔ اس لیے بحران کے خاتمے کی مدت کے بارے میں قطعی اندازہ دینا قبل از وقت ہوگا۔
ایل پی جی مارکیٹ میں موجودہ دباؤ علاقائی کشیدگی اور سرحدی نقل و حرکت میں رکاوٹ کے وسیع معاشی اثرات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اگر رسد بحال ہوتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن نقل و حمل، درآمدی لاگت اور مقامی ذخائر بھی قیمتوں کی سمت متعین کریں گے۔ صارفین کے لیے سرکاری نرخ اور منظور شدہ ڈیلرز کی معلومات کی نگرانی اہم رہے گی۔

