اسلام آباد: سینیٹ میں مشرق وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی اور عالمی توانائی رسد کے خدشات کے تناظر میں پاکستان میں دسمبر تک پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی پر سوالات اٹھائے گئے، جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ فی الحال ملک میں ایندھن کی سپلائی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت سے ممکنہ راشننگ اور ہنگامی منصوبہ بندی کے بارے میں پارلیمان کو بریف کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ حکومت کی ہدفی فیول سبسڈی اسکیم سے ایک کروڑ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں اور پٹرول پمپس پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ وقت میں ایندھن کی سپلائی کا مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازع کے باعث پٹرولیم قیمتوں پر اثر مختلف ممالک میں محسوس کیا جا رہا ہے اور حکومت موٹر سائیکل، رکشہ، لوڈر اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والوں کو ہدفی ریلیف دے رہی ہے۔
شیری رحمان نے یاد دلایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان نے نومبر تک کی ضروری توانائی سپلائیز کا انتظام کر لیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دسمبر اور اس کے بعد کی صورت حال کے لیے کیا منصوبہ ہے اور کیا حکومت کسی راشننگ یا متبادل انتظام پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور خطے میں تازہ حملوں کی اطلاعات پاکستان کی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔
سینیٹر نے ایل پی جی کی درآمدی انحصار پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ملک اپنی ایل پی جی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے سمندری راستوں یا علاقائی سپلائی میں خلل کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ یہ پارلیمانی خدشات ہیں؛ حکومت نے کسی موجودہ پٹرول قلت یا راشننگ کا اعلان نہیں کیا۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ سپلائی کے مستقبل کے خطرات اور موجودہ عملی قلت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں تنازع اور اہم بحری گزرگاہوں سے متعلق خطرات نے عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھایا ہے۔ پاکستان درآمدی توانائی پر انحصار کے باعث قیمت اور رسد دونوں کے بیرونی جھٹکوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔ سینیٹ میں ہونے والی بحث کا مرکزی مطالبہ یہ تھا کہ حکومت موسم سرما اور دسمبر کے لیے اپنی کنٹیجنسی منصوبہ بندی، ذخائر اور درآمدی حکمت عملی پارلیمان کے سامنے واضح کرے، جبکہ حکومتی جواب میں موجودہ سپلائی کو اطمینان بخش قرار دیا گیا۔

