اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.85 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ حساس قیمت اشاریہ (SPI) گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.65 فیصد بڑھا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے، خصوصاً آٹے، ایل پی جی اور مرغی کے نرخوں نے ہفتہ وار مہنگائی پر نمایاں دباؤ ڈالا۔
SPI میں شامل 51 ضروری اشیا میں سے 19 کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ، 12 میں کمی اور 20 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ایل پی جی کی قیمت ایک ہفتے میں 22.44 فیصد بڑھی، مرغی 12.20 فیصد، پیاز 4.19 فیصد، سادہ روٹی 1.66 فیصد اور گندم کا آٹا ایک فیصد مہنگا ہوا۔ دوسری طرف ٹماٹر 21.99 فیصد، پٹرول 3.63 فیصد، کیلا 2.42 فیصد، ڈیزل 1.68 فیصد اور آلو 1.38 فیصد سستے ہوئے۔
سالانہ بنیاد پر بعض بنیادی اشیا میں اضافہ کہیں زیادہ نمایاں رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ایل پی جی 107.12 فیصد، پیاز 72.81 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی 58.59 فیصد، پٹرول 44.17 فیصد، ڈیزل 41.56 فیصد، مرغی 38.99 فیصد اور گندم کا آٹا 36.49 فیصد مہنگا رہا۔ اس کے مقابلے میں ٹماٹر، آلو، چینی اور انڈوں سمیت چند اشیا کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ریکارڈ ہوئیں۔
حساس قیمت اشاریہ روزمرہ استعمال کی منتخب اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں قلیل مدت کی تبدیلی دکھاتا ہے۔ بیورو 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے قیمتیں جمع کر کے 51 اشیا پر مشتمل یہ اشاریہ تیار کرتا ہے۔ یہ مکمل صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں، لیکن ہفتہ وار سطح پر گھریلو اخراجات میں تیز تبدیلیوں کی سمت سمجھنے کے لیے اہم پیمانہ ہے۔
گزشتہ ہفتے سالانہ قلیل مدتی مہنگائی 11.38 فیصد تھی، جس کے مقابلے میں تازہ ریڈنگ مزید بلند ہوئی ہے۔ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں پر جن کے اخراجات میں خوراک اور ایندھن کا حصہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں آٹے، توانائی اور سبزیوں کی قیمتوں کا رجحان SPI کی سمت کے لیے اہم رہے گا۔
