اسلام آباد: پاکستان بیورو شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں قلیل مدتی مہنگائی، جسے حساس قیمت اشاریے کے ذریعے ناپا جاتا ہے، سالانہ بنیاد پر بڑھ کر 11.85 فیصد ہوگئی۔ ہفتہ وار بنیاد پر ایس پی آئی میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق حالیہ اضافے میں گندم کے آٹے، ایل پی جی اور بعض دیگر خوراک و غیر خوراک اشیا کی قیمتوں نے اہم کردار ادا کیا۔
حساس قیمت اشاریہ 51 ضروری اشیا کی قیمتوں پر مشتمل ہے، جن کے نرخ ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے جمع کیے جاتے ہیں۔ زیرِ جائزہ ہفتے میں 19 اشیا کی قیمتیں بڑھیں، 12 کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 20 اشیا کے نرخ گزشتہ ہفتے کی سطح پر برقرار رہے۔ مسلسل کئی ہفتوں سے سالانہ قلیل مدتی مہنگائی دو ہندسوں میں موجود ہے، جس سے گھرانوں کے روزمرہ اخراجات پر دباؤ برقرار ہے۔
ہفتہ وار بنیاد پر ایل پی جی کی قیمت میں 22.44 فیصد، مرغی میں 12.20 فیصد، پیاز میں 4.19 فیصد، سادہ روٹی میں 1.66 فیصد اور گندم کے آٹے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ لہسن، جلانے کی لکڑی، گھی، بیف اور دال ماش بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔ دوسری جانب ٹماٹر کی قیمت میں 21.99 فیصد، پٹرول میں 3.63 فیصد اور ڈیزل میں 1.68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کیلے، آلو، چنے کی دال، انڈے، دودھ پاؤڈر، چینی اور بعض اقسام کے چاول بھی نسبتاً سستے ہوئے۔
سالانہ موازنے میں ایل پی جی کی قیمت 107.12 فیصد زیادہ رہی، جبکہ پیاز 72.81 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی 58.59 فیصد، پٹرول 44.17 فیصد، ڈیزل 41.56 فیصد، مرغی 38.99 فیصد اور گندم کا آٹا 36.49 فیصد مہنگا ریکارڈ ہوا۔ اس کے برعکس ٹماٹر، آلو، چینی، انڈے اور بعض دالوں کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں کم رہیں۔
گزشتہ ہفتے سالانہ قلیل مدتی مہنگائی 11.38 فیصد تھی۔ نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اب بھی مہنگائی کے مجموعی رجحان پر نمایاں اثر ڈال رہا ہے۔ عالمی توانائی منڈی کی غیر یقینی صورتحال اور اندرون ملک اشیائے خورونوش کی رسد کے مسائل آئندہ ہفتوں میں صارفین کی قوت خرید اور مہنگائی کے اشاریوں کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔

