کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 21.49 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.833 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ذخائر میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود تقریباً 5.344 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر میں معمولی اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور عالمی توانائی قیمتوں کے اثرات پر مارکیٹ کی توجہ برقرار ہے۔
زرمبادلہ ذخائر کسی بھی معیشت کی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت کا ایک اہم اشاریہ ہوتے ہیں۔ ان میں اضافہ درآمدی ادائیگیوں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے اضافی گنجائش فراہم کر سکتا ہے، تاہم ایک ہفتے کی محدود تبدیلی سے طویل مدتی رجحان اخذ کرنا مناسب نہیں۔ ذخائر کی پائیداری کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں کے بہاؤ اور ادائیگیوں کے شیڈول سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھنے کے لیے درآمدی نظم، کثیرالجہتی مالی تعاون اور ترسیلات زر کے رسمی ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دی ہے۔ دوسری جانب عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ درآمدی بل پر فوری اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ توانائی کی درآمدات ملکی زرمبادلہ طلب کا اہم حصہ ہیں۔
تازہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک کی ہفتہ وار رپورٹ کا حصہ ہیں اور یہ کسی نئی قرض سہولت یا ایک بڑے غیر معمولی سرمائے کے بہاؤ کا اعلان نہیں۔ اس لیے 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے اضافے کو محدود ہفتہ وار بہتری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ ہفتوں میں ذخائر کی سمت کا تعین بیرونی ادائیگیوں، سرکاری قرضوں کی وصولیوں اور تجارتی بہاؤ سے ہوگا۔

