وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کراچی میں اپ گریڈ شدہ سینٹرل پلانٹ قرنطینہ لیبارٹری اور فیڈرل پیسٹی سائیڈز ٹیسٹنگ اینڈ ریفرنس لیبارٹری کا افتتاح کردیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ان سہولتوں کی بہتری کا مقصد پاکستان کی زرعی بائیوسکیورٹی، کیڑے مار ادویات کے معیار کی جانچ اور بین الاقوامی زرعی تجارت کے لیے درکار سائنسی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب میں جامعہ کراچی، ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، محکمہ تحفظ نباتات کے سینئر حکام، سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ فصلوں کو نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنا غذائی تحفظ، زرعی پیداوار اور برآمدات کے لیے ضروری ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے لیے جدید سائنسی بنیادی ڈھانچہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حکومت کے مطابق اپ گریڈ شدہ سینٹرل پلانٹ قرنطینہ لیبارٹری درآمدی زرعی اجناس کے ساتھ آنے والے ممکنہ نقصان دہ کیڑوں اور پودوں کی بیماریوں کی تشخیص کی صلاحیت بہتر کرے گی۔ بہتر قرنطینہ ٹیسٹنگ سے بیرونی حملہ آور کیڑوں کے ملک میں داخلے کی روک تھام، مقامی فصلوں کے تحفظ اور عالمی فائیٹو سینیٹری تقاضوں کی تکمیل میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
فیڈرل پیسٹی سائیڈز ٹیسٹنگ اینڈ ریفرنس لیبارٹری کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ کیڑے مار ادویات کی فارمولیشنز کے سائنسی تجزیے، فعال اجزا کی تصدیق اور غیر معیاری زرعی کیمیکلز کی نشاندہی میں معاون ہوگی۔ اسی طرح زرعی مصنوعات میں پیسٹی سائیڈ باقیات کی بہتر جانچ خوراک کی حفاظت، ضابطہ جاتی عمل درآمد اور برآمدی منڈیوں کے تقاضوں کی تکمیل میں مدد دے سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے قابل اعتماد لیبارٹری نتائج، تربیت یافتہ سائنسی عملے، معیاری جانچ کے طریقہ کار اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کوالٹی مینجمنٹ کو مؤثر زرعی نگرانی کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان سہولتوں کے عملی اثرات کا انحصار مستقل معیار، جانچ کی رفتار، نفاذی اداروں کے درمیان رابطے اور برآمد کنندگان و کاشتکاروں تک قابل اعتماد خدمات کی فراہمی پر ہوگا۔
