پاکستان کی مجوزہ نئی آٹو پالیسی میں مقامی مینوفیکچرنگ بڑھانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے ذریعے آئندہ پانچ سال میں مجموعی طور پر تقریباً 25 ارب ڈالر کی بچت اور معاشی فوائد حاصل کرنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ عرب نیوز پاکستان نے پالیسی کے مسودے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکومت گاڑیوں کی درآمد پر انحصار اور زرمبادلہ کے اخراج کو کم کرتے ہوئے مقامی صنعت کا حصہ بڑھانا چاہتی ہے۔

مسودے کے مطابق مقامی مینوفیکچرنگ سے تقریباً 17.7 ارب ڈالر جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے سے تقریباً 6.9 ارب ڈالر کے فوائد یا بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دونوں اعداد کو ملا کر مجموعی حجم تقریباً 24.6 ارب ڈالر بنتا ہے، جسے پالیسی دستاویز میں قریب 25 ارب ڈالر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ رقم پہلے سے حاصل شدہ سرکاری آمدن یا یقینی نقد بچت نہیں بلکہ پالیسی کے مفروضوں پر مبنی پانچ سالہ تخمینہ ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق مجوزہ آٹو پالیسی کا مسودہ چند روز میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بھیجے جانے کی توقع ہے۔ پاکستان کے جاری معاشی پروگرام کے باعث ٹیرف، درآمدی پالیسی، صنعتی تحفظ اور مراعات جیسے اقدامات پر آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت اہم ہو سکتی ہے۔ پالیسی کی حتمی شکل مسودے سے مختلف بھی ہو سکتی ہے، اس لیے موجودہ تجاویز کو منظور شدہ حتمی قواعد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

حکومت مقامی گاڑی سازی میں پرزہ جات کی اندرون ملک تیاری، برآمدی صلاحیت اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں سے ایندھن کی درآمدی ضرورت کم کرنے، شہری آلودگی میں کمی اور نئی صنعتی سپلائی چین بنانے کی توقع وابستہ کی جا رہی ہے۔ تاہم ان اہداف کے لیے قابل اعتماد چارجنگ نیٹ ورک، بجلی کی دستیابی، بیٹری ٹیکنالوجی، قیمتوں میں مسابقت اور صارفین کے لیے قابل عمل فنانسنگ اہم عوامل ہوں گے۔

پاکستان کا آٹو شعبہ درآمدی پرزہ جات، روپے کی قدر، شرح سود اور ٹیکس پالیسی سے خاصا متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ مقامی پیداوار زرمبادلہ پر دباؤ کم کر سکتی ہے، لیکن مقامی صنعت کو عالمی معیار اور قیمت پر مسابقتی بنانا بھی ضروری ہوگا تاکہ صارفین پر غیر ضروری لاگت منتقل نہ ہو۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں سے متوقع ایندھن بچت کا حقیقی حجم ان کی فروخت، استعمال، بجلی کے ذرائع اور روایتی گاڑیوں کے متبادل بننے کی رفتار پر منحصر ہوگا۔

مجوزہ پالیسی کے 25 ارب ڈالر کے تخمینے کی اصل آزمائش حتمی منظوری اور نفاذ کے بعد ہوگی۔ اگلے مراحل میں آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کی رائے اور حکومت کی حتمی منظوری اہم ہیں۔ اس لیے موجودہ اعداد کو پالیسی کا ہدف اور تخمینہ سمجھا جانا چاہیے، تصدیق شدہ معاشی نتیجہ نہیں۔