لاہور ہائیکورٹ نے ایک ویونگ مل کے ڈائریکٹرز پر بینیفیشل اونرشپ سے متعلق گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ ڈان کے مطابق جسٹس جواد حسن نے سات باہم منسلک تجارتی اپیلیں منظور کیں، جن میں کمپنی کے چیئرمین فواد احمد مختار کی اپیل بھی شامل تھی۔

ایس ای سی پی نے ہر ڈائریکٹر پر 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ معاملہ ڈائریکٹرز کی دوبارہ تقرری کے بعد فارم 5 جمع کرانے میں 253 دن کی تاخیر سے متعلق تھا۔ سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 103 اور متعلقہ 2015 ریگولیشنز کے تحت لسٹڈ کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو مخصوص ملکیتی معلومات مقررہ مدت، یعنی سات دن، کے اندر جمع کرانا ہوتی ہیں۔

اپیلوں میں ایس ای سی پی کے جرمانوں کی قانونی بنیاد کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے ریکارڈ اور متعلقہ قانونی دفعات کا جائزہ لینے کے بعد جرمانے ختم کر دیے۔ عدالتی فیصلہ مخصوص اپیلوں اور ان کے حقائق سے متعلق ہے؛ اسے عمومی طور پر تمام تاخیر سے جمع ہونے والے ملکیتی گوشواروں پر جرمانے کے خاتمے کا حکم نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسرے معاملات میں ذمہ داری متعلقہ حقائق، قانون اور ریگولیٹری کارروائی کے مطابق طے ہوگی۔

بینیفیشل اونرشپ اور ڈائریکٹرز کی ملکیتی دلچسپیوں سے متعلق معلومات کمپنی ریگولیشن میں شفافیت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ایسے گوشواروں کا مقصد سرمایہ کاروں اور ریگولیٹر کو یہ جاننے میں مدد دینا ہے کہ لسٹڈ کمپنیوں سے وابستہ اہم افراد کے مالی یا ملکیتی مفادات کیا ہیں۔ اسی لیے قانون ان معلومات کی بروقت فائلنگ کے لیے مقررہ مدت طے کرتا ہے۔

تازہ فیصلے کی کاروباری اہمیت اس پہلو سے ہے کہ ریگولیٹری جرمانوں کے نفاذ میں صرف تاخیر کا وجود ہی نہیں بلکہ متعلقہ قانونی اختیار، طریقہ کار اور مخصوص حالات بھی عدالتی جانچ کا موضوع بن سکتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے ان سات اپیل کنندگان کو ریلیف ملا ہے، تاہم ایس ای سی پی کے ملکیتی انکشافات سے متعلق عمومی قواعد بدستور قانون اور متعلقہ ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے جب تک انہیں کسی مجاز فورم سے تبدیل نہ کیا جائے۔