اڈیالہ جیل میں عمران خان کی طبی سہولتوں، معائنے اور ملاقاتوں سے متعلق اختلاف میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے سابق ٹیسٹ اور بین الاقوامی کپتانوں کے ایک گروپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے عدالتی ہدایات کے مطابق طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خط کے مندرجات کی میڈیا رپورٹ ہے؛ دستخطوں، عدالتی عمل اور طبی حالت کی حتمی جانچ متعلقہ اصل دستاویزات سے ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے اور ایسے میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہوں، جبکہ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بحال کرنے کی بات بھی کی گئی۔ سابق کپتانوں نے تشویش ظاہر کی کہ اسپتال میں قیام چند گھنٹوں تک محدود رہا اور ان کے بقول معائنہ عدالتی ہدایت میں بیان کردہ بورڈ کے بجائے سرکاری ٹیم نے کیا، جس نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا۔
خط میں تین مطالبات رپورٹ ہوئے: عدالتی حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ کو مکمل اور آزاد معائنہ کرنے دینا، بالخصوص دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی کا جائزہ؛ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بلا تعطل یقینی بنانا؛ اور طبی معائنے کے نتیجے میں تجویز کردہ علاج فوری فراہم کرنا۔ آنکھ کی حالت اور علاج کی ضرورت یہاں خط سے منسوب دعوے ہیں، آزاد تشخیص نہیں۔
رپورٹ نے مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، ایان اور گریگ چیپل، الیسٹر کک، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا اور اسٹیو وا سمیت متعدد سابق کپتانوں کے نام بیان کیے۔ خط لکھنے والوں نے کہا کہ وہ سیاسی مداخلت نہیں بلکہ کرکٹ میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے اپیل کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ نے حکومتی مؤقف اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سخت سلوک، تنہائی اور طبی غفلت کے دعوؤں پر سوال اٹھایا تھا۔ اسی رپورٹ میں حکومت نے الزامات کو بے بنیاد کہا اور ثانوی ذرائع سے 900 سے زیادہ ملاقاتوں کا دعویٰ نقل کیا گیا۔ یہ عدد، سہولتوں کی نوعیت اور علاج کے معیار پر پی ٹی آئی و حکومت کے مؤقف مختلف ہیں۔
قابل فیصلہ صورتحال عدالتی حکم کے مکمل متن، مجاز میڈیکل بورڈ کی رپورٹ، جیل ریکارڈ اور دونوں فریقوں کے دستاویزی جواب سے واضح ہوگی۔ اس اپ ڈیٹ میں نہ خط کے طبی دعووں کو حتمی تشخیص کہا گیا ہے اور نہ حکومتی تردید کو مکمل آزاد ثبوت۔ آئندہ عدالتی یا طبی پیش رفت اسی article میں شامل کی جا سکتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




