کراچی کی شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے ایک خاتون کو جعلی نکاح اور شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانے میں درج کر لیا گیا ہے اور گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ گرفتاری الزام پر ہوئی ہے، جرم ابھی عدالت سے ثابت نہیں ہوا۔

پولیس کے بیان کے مطابق ملزم نے ستمبر 2025 میں موبائل فون کے ذریعے خاتون سے مبینہ نکاح کیا اور بعد میں شادی کا جھانسہ دے کر اسے تین مرتبہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ تفصیل پولیس اور شکایت کنندہ کے مؤقف پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں نکاح کے مبینہ طریقہ، دستاویز، گواہوں یا ڈیجیٹل ریکارڈ کی قانونی حیثیت پر کوئی حتمی تحقیقاتی نتیجہ نہیں دیا گیا۔

خاتون کے بیان کے مطابق ملزم مارچ 2026 میں ان کے گھر آیا اور کئی گھنٹے وہاں موجود رہا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ اور بچوں کا باپ ہے۔ ان دعوؤں کی جانچ پولیس تفتیش، دستیاب ڈیجیٹل مواد، بیانات اور ممکنہ طبی یا فرانزک شواہد کے ذریعے ہوگی؛ خبر میں ایسے شواہد کے مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو حراست میں لیا ہے۔ فوجداری عمل میں گرفتاری کے بعد تفتیشی افسر شواہد جمع کرتا ہے، پھر عدالت کے سامنے ریمانڈ، چالان اور سماعت کے مراحل آ سکتے ہیں۔ موجودہ خبر کو سزا، اعتراف یا عدالتی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

جنسی تشدد کے مقدمات میں متاثرہ فرد کی شناخت اور نجی معلومات کا تحفظ بنیادی اداراتی ضرورت ہے، اسی لیے اس رپورٹ میں نام یا شناختی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔ آئندہ پیش رفت پولیس کی باضابطہ تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالت کے ریکارڈ سے واضح ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر مقدمے کے اندراج، پولیس کے بیان کردہ الزام اور نامزد شخص کی گرفتاری تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک