وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بونیر کے سواڑی چوک میں سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کو بڑے احتجاجی اقدام کے لیے نکلنے کا اعلان کیا اور وفاقی و پنجاب حکومتوں پر عمران خان کے علاج اور عدالتی حکم سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ تمام دعوے وزیراعلیٰ کی تقریر اور سیاسی مؤقف ہیں، کسی عدالتی فیصلے سے ثابت شدہ نتائج نہیں۔
ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے عمران خان کا شفا اسپتال میں علاج نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تین ججوں کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا ان کی بہن کی موجودگی میں علاج ہونا تھا۔ رپورٹ میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، نواز شریف یا اسپتال کا جواب شامل نہیں، اس لیے الزام کو انہی کے بیان سے منسوب رکھنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت 27 ستمبر کو خالی ہاتھ واپس نہیں آئے گی اور انہوں نے سخت سیاسی زبان استعمال کرتے ہوئے اسے حقیقی آزادی کی جدوجہد قرار دیا۔ انہوں نے 40 لاکھ افراد کے نکلنے کا دعویٰ بھی کیا، لیکن یہ مستقبل کے اجتماع کا سیاسی تخمینہ ہے؛ شرکت کی اصل تعداد صرف واقعہ ہونے کے بعد آزاد مشاہدے سے معلوم ہو سکتی ہے۔
خطاب میں سہیل آفریدی نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو جعلی قرار دیا، مینڈیٹ چوری اور 5,300 ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام لگایا اور ادارہ جاتی کردار پر تنقید کی۔ ایکسپریس کی خبر میں ان مالی یا انتخابی الزامات کی الگ دستاویز یا متعلقہ فریقوں کا جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ اس لیے انہیں تصدیق شدہ بدعنوانی یا قانونی نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ نے نوجوانوں سے عمران خان کی حمایت میں نکلنے کی اپیل کی اور کہا کہ مختلف کوششوں کے باوجود کارکن اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹیں۔ تقریر سے آئندہ سیاسی سرگرمی کا ارادہ واضح ہوتا ہے، مگر احتجاج کے مقام، راستوں، انتظامی اجازت، سیکیورٹی یا مذاکرات کی تفصیل رپورٹ میں موجود نہیں۔ آئندہ سرکاری یا جماعتی شیڈول اس اعلان کی عملی شکل واضح کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




