لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کسی مجوزہ گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی اور نظام میں تبدیلی کے لیے اپنے سیاسی فورم سے عوامی مسائل اٹھائے گی۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ مؤقف سینئر صحافیوں اور ایڈیٹرز سے ملاقات میں پیش کیا۔ یہ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کا بیان ہے، کسی باقاعدہ بین الجماعتی معاہدے یا انتخابی اتحاد کے خاتمے کا اعلان نہیں۔
حافظ نعیم کے مطابق ماضی کے وسیع سیاسی اتحاد جماعت اسلامی کے لیے فائدے کے بجائے زیادہ نقصان کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اپنی تحریک خود منظم کرے گی اور حکومت سے مذاکرات بھی عوامی احتجاج کے تناظر میں ہونے چاہییں۔ ان کے بقول لاہور، کراچی اور پشاور میں دھرنوں کے دوران اسلام آباد کے بند کمروں میں الگ مذاکرات مناسب نہیں ہوں گے۔ حکومت یا دوسری اپوزیشن جماعتوں کا تازہ جواب اس رپورٹ میں شامل نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف پہلے سے اعلان کردہ احتجاجی لائحہ عمل بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے طریقۂ کار کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد پہیہ جام اور اسلام آباد کی طرف مارچ کے مراحل زیر غور ہیں۔ ان تمام اقدامات کی تاریخ، دائرۂ کار اور عملی انتظامات جماعت کے آئندہ اعلان سے واضح ہوں گے؛ موجودہ بیان کو فوری ہڑتال یا مارچ کے آغاز کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم نے پیٹرولیم لیوی کو عوام پر غیر منصفانہ بوجھ قرار دیا اور میڈیا سے حکومتی پالیسی کے اثرات نمایاں کرنے کی اپیل کی۔ یہ ان کا سیاسی و معاشی مؤقف ہے۔ خبر میں لیوی کی موجودہ شرح، سرکاری آمدن یا قیمت سازی کے مکمل اعداد فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے ان نکات پر کوئی اضافی عدد یا معاشی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
سیاسی طور پر اس اعلان کی اہمیت یہ ہے کہ جماعت اسلامی حکومت مخالف سرگرمی برقرار رکھتے ہوئے بڑے اپوزیشن اتحاد میں ضم ہونے کے بجائے اپنی تنظیمی شناخت محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار جماعت کے باضابطہ احتجاجی شیڈول، حکومت کے مذاکراتی جواب اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ردعمل پر ہوگا۔ اردو ہیڈلائنز نے تمام سیاسی دعوے واضح نسبت کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




