نئی دہلی: بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے زیر انتظام تمام 21 ریاستوں میں 2029 تک یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اے ایف پی کے مطابق یہ اعلان وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کے دیرینہ سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد شادی، طلاق، وراثت اور دیگر ذاتی معاملات کے لیے مختلف مذہبی و روایتی قوانین کی جگہ مشترکہ ضابطہ لانا ہے۔

بھارت میں فوجداری قانون عمومی طور پر سب شہریوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے، تاہم نکاح یا شادی، طلاق، وراثت اور خاندانی معاملات میں مختلف مذہبی برادریوں کے ذاتی قوانین اور رسوم کو قانونی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یونیفارم سول کوڈ کا تصور انہی مختلف نظاموں کو ایک مشترکہ شہری قانون کے تحت لانے کی کوشش ہے۔

امیت شاہ نے اتوار کو کہا کہ یو سی سی پہلے ہی کئی ریاستوں میں متعارف کرایا جا چکا ہے اور انہیں یقین ہے کہ 2029 تک این ڈی اے کے زیر حکومت تمام 21 ریاستیں اسے نافذ کر دیں گی۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم چار ریاستیں اب تک اس نوعیت کا ضابطہ نافذ کر چکی ہیں۔ بھارت میں اگلے عام انتخابات بھی 2029 میں متوقع ہیں۔

یو سی سی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مشترکہ سول قانون سے شہریوں، بالخصوص خواتین، کے لیے شادی، طلاق اور وراثت کے معاملات میں یکساں حقوق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ بعض مذہبی ذاتی قوانین میں موجود کثرت ازدواج یا جائیداد کی غیر مساوی تقسیم جیسے قواعد کو مشترکہ قانون کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی مسلم برادری کے بعض نمائندوں اور شہری آزادیوں کے کارکنوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایک مرکزی یکساں ضابطہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے اپنے خاندانی قوانین پر عمل کے حق کو محدود کر سکتا ہے۔ بھارت میں اندازاً 22 کروڑ مسلمان آباد ہیں، اس لیے ذاتی قوانین میں تبدیلی کا سوال بڑے سماجی اور آئینی مباحث سے جڑا ہوا ہے۔

یہ معاملہ سیاسی طور پر بھی حساس ہے کیونکہ بی جے پی نے طویل عرصے سے یونیفارم سول کوڈ کو اپنے انتخابی منشور اور نظریاتی اہداف میں شامل رکھا ہے۔ مودی نے 2024 میں مسلسل تیسری مدت کے لیے حکومت بنائی، تاہم اس بار بی جے پی کو اتحادی حکومت بنانا پڑی۔ ریاستی سطح پر یو سی سی کے مختلف ماڈلز اور ان کے عدالتی جائزے آئندہ برسوں میں قومی پالیسی کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

فی الحال امیت شاہ کا بیان ایک سیاسی و حکومتی ہدف ہے؛ ہر ریاست میں قانون سازی کی تفصیلات، مقامی اسمبلیوں کی منظوری اور ممکنہ عدالتی چیلنجز الگ مراحل ہوں گے۔ اس لیے 2029 تک مکمل نفاذ کا نتیجہ قانون سازی اور عدالتی عمل پر منحصر رہے گا۔