بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران تیز رفتار اور بھاری سامان سے لدا ٹرک بے قابو ہو کر عقیدت مندوں کے ہجوم میں جا گھسا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ ڈان اور اے ایف پی کے مطابق واقعہ اتوار کی علی الصبح ایک مندر کے قریب پیش آیا جہاں مذہبی تہوار کے سلسلے میں لوگ جمع تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اسپتال حکام کے حوالے سے 13 اموات کی تصدیق کی۔ فوری رپورٹوں میں زخمیوں کی مکمل تعداد اور ان کی حالت کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔ حادثے کی ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ بھاری ٹرک نے کنٹرول کھو دیا اور اجتماع میں موجود لوگوں کو کچل دیا۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات کی مزید تحقیقات متوقع ہیں۔

بھارتی صدر دروپدی مرمو نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی گوالیار میں عقیدت مندوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا۔

یہ حادثہ مشرقی بھارت میں ایک دوسرے مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ سے کم از کم 17 افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد پیش آیا، جس سے بڑے اجتماعات میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ دونوں واقعات الگ ہیں اور گوالیار کی ہلاکتیں سڑک حادثے کے نتیجے میں ہوئیں۔

بھارت میں سڑک حادثات ایک بڑا عوامی تحفظ کا مسئلہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک میں سڑک ٹریفک حادثات سے ایک لاکھ 83 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں، یعنی اوسطاً روزانہ 500 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ حکام کے مطابق خراب سڑکوں، گاڑیوں کی ناقص حالت اور تھکے ہوئے ڈرائیوروں سمیت مختلف عوامل حادثات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ گوالیار واقعے میں ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔