قاہرہ: مصر نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں میں اضافے کے بعد ریاض کو اس کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے ضروری اور ممکن مدد فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق مصری ایوان صدر نے اتوار کو یہ موقف صدر عبدالفتاح السیسی کی زیر صدارت قومی دفاع کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کیا، جس میں پارلیمان کے اسپیکر، وزیراعظم اور فوج کے سربراہ سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
مصری ایوان صدر کے بیان میں کہا گیا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی و استحکام، وسائل، علاقائی سالمیت اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ضروری مدد فراہم کرے گا۔ صدر السیسی نے پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست بھی کی تاکہ اگر سعودی حکومت باضابطہ طور پر معاونت مانگے تو مصری فوج کو مدد فراہم کرنے کی قانونی اجازت دی جا سکے۔ پارلیمانی منظوری کا عمل اس بات سے الگ ہے کہ عملی طور پر کس نوعیت اور کس سطح کی فوجی مدد دی جائے گی؛ اس بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی تعین سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد لڑائی میں دوبارہ شدت آئی ہے۔ مصر کا تازہ اعلان اسی بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
صدر السیسی نے ہفتے کو ایک خطاب میں کہا تھا کہ مصر سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ رابطے اور ان کی رہنمائی کے مطابق اقدام کرے گا۔ سعودی ولی عہد نے 15 ستمبر کو السیسی سے ملاقات بھی کی تھی۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات ہیں، اور ریاض نے گزشتہ برسوں میں مصر کو مالی امداد، مرکزی بینک ڈپازٹس اور سرمایہ کاری کی صورت میں نمایاں تعاون فراہم کیا ہے۔
مصر 2015 میں یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت والے اتحاد میں شامل ہوا تھا، تاہم اس کا براہ راست جنگی کردار محدود رہا۔ موجودہ بیان اس لیے اہم ہے کہ قاہرہ نے ممکنہ مدد کے لیے پارلیمانی اجازت کا راستہ کھولنے کی بات کی ہے، لیکن اسے سعودی درخواست یا مصری فوج کی عملی تعیناتی کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
حوثی سعودی عرب کے خلاف اپنے حملوں کو یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والا اتحاد انہیں علاقائی سلامتی اور شہری و توانائی تنصیبات کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ مصر کی قومی دفاع کونسل کے فیصلے کے بعد توجہ اب اس بات پر رہے گی کہ سعودی عرب باضابطہ معاونت طلب کرتا ہے یا نہیں اور مصری پارلیمان کسی ممکنہ فوجی کردار کے لیے کس نوعیت کی منظوری دیتی ہے۔

