کینیڈا کے مغربی صوبہ البرٹا میں واقع کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ پر ایک سنگین واقعے اور بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ ڈان پر شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے ہفتے کی رات بتایا کہ اڈے پر پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے، تاہم انہوں نے ہلاک یا زخمی افراد کی تعداد ظاہر نہیں کی۔

وزیراعظم مارک کارنی نے اس سے قبل کہا تھا کہ فوجی اڈے پر ایک سنگین واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ وین رائٹ فوجی اڈہ ایڈمنٹن سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور کینیڈین فوج کے مصروف ترین اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ وفاقی حکام نے ابھی واقعے کی نوعیت، ممکنہ وجہ یا اس بات کی تفصیل جاری نہیں کی کہ متاثرہ افراد فوجی اہلکار تھے یا دیگر افراد۔

ایڈمنٹن کے ایک ڈاکٹر نے کینیڈین نشریاتی ادارے سی بی سی کو بتایا کہ وین رائٹ کے مقامی طبی مراکز مریضوں کی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق صورتحال غیر معمولی نوعیت کی تھی۔ مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، تاہم بعد میں اسے قابو میں رکھنے کی اطلاع دی گئی اور فائر فائٹنگ عملہ نگرانی جاری رکھے ہوئے تھا۔

وزیراعظم کارنی نے کہا کہ وفاقی حکومت البرٹا کے صوبائی حکام اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ حکام نے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مزید معلومات آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں جاری کی جائیں گی۔ اس مرحلے پر ہلاکتوں کی تعداد یا واقعے کے محرک کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے کیونکہ سرکاری تفتیش اور تفصیلی بریفنگ ابھی سامنے نہیں آئی۔

واقعے کا ایک سیاسی و انتظامی اثر بھی سامنے آیا ہے۔ آگ اور ہنگامی صورتحال کے باعث البرٹا میں مستقبل میں آزادی سے متعلق ممکنہ رائے شماری کے سوال پر ہونے والی پیشگی ووٹنگ متاثر ہوئی اور وین رائٹ کا ایک ایڈوانس پولنگ اسٹیشن بند کرنا پڑا۔ حکام کے لیے فوری ترجیح متاثرین کی طبی امداد، آگ کی مکمل نگرانی اور فوجی اڈے پر پیش آنے والے واقعے کی وجہ کا تعین ہے۔