سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کی سرحد کے قریب سعودی عرب کے نجران علاقے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گرنے سے دو افسر ہلاک ہوگئے۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق سعودی نیشنل گارڈ کا اے ایچ-6 آئی نگرانی کا ہیلی کاپٹر سعودی حدود کے اندر تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا اور اس کے دونوں فضائی عملہ ارکان جان سے گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یمن میں حوثی گروپ اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ چکی ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے الگ بیان میں دعویٰ کیا کہ گروپ نے اسی علاقے میں ایک سعودی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ سعودی اتحاد نے اس دعوے کے برعکس حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی ہے۔ دونوں متضاد بیانات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں، اس لیے حادثے کی وجہ سے متعلق دونوں فریقوں کے دعوے الگ الگ نسبت کے ساتھ بیان کیے جا رہے ہیں۔
ڈان، اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد یہ سعودی اتحاد کی پہلی فوجی ہلاکتیں ہیں۔ ایک ہفتہ قبل ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے سعودی عرب میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا۔
اسی روز مصر کے ایوان صدر نے کہا کہ قاہرہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے ضرورت پڑنے پر تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تاکہ اگر ریاض مدد مانگے تو فوجی تعاون کی اجازت پر غور کیا جا سکے۔
یمن میں کئی برس کی نسبتاً کم شدت کے بعد حالیہ مہینوں میں لڑائی دوبارہ بڑھی ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور سعودی اہداف پر حملے کیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثی علاقوں پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ موجودہ ہیلی کاپٹر حادثہ اسی بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں پیش آیا ہے اور اس کی تکنیکی یا جنگی وجہ پر فریقین کے بیانات مختلف ہیں۔

