لکھنؤ: بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں شدید دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں 8 بچے شامل ہیں۔ ایکسپریس اردو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا پیر کو پیش آیا اور اس کی شدت سے فیکٹری کے قریب متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے بعض منہدم ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 4 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے اور انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں زخمیوں کی حتمی تعداد یا ان کی موجودہ طبی حالت الگ طور پر بیان نہیں کی گئی، اس لیے خبر میں صرف متعدد زخمیوں کی تصدیق تک محدود رکھا گیا ہے۔
امدادی ٹیموں نے ملبہ ہٹانے اور متاثرہ افراد کی تلاش کا کام شروع کیا۔ پولیس نے کہا کہ دھماکے کی فوری وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ فیکٹری میں پٹاخے تیار کیے جا رہے تھے، لیکن کسی مخصوص خام مال، برقی خرابی، حفاظتی خلاف ورزی یا مجرمانہ اقدام کو ابھی حتمی سبب قرار نہیں دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے کے اثرات قریبی رہائشی علاقے تک پہنچے اور گھروں کے نقصان نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔ یہ ابتدائی رپورٹنگ ہے؛ عمارتوں کے تکنیکی معائنے اور سرکاری تفتیش کے بعد ہی حفاظتی ضوابط، اجازت ناموں اور ذمہ داری کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے آسکے گا۔
بھارت میں پٹاخوں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات میں پہلے بھی سنگین حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق رواں سال مارچ میں مغربی علاقے کی ایک فیکٹری میں آگ سے 17 افراد اور اپریل میں جنوبی بھارت کی ایک ذخیرہ گاہ میں آتشزدگی سے 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سابق واقعات عمومی خطرے کا پس منظر ہیں اور تازہ دھماکے کی وجہ کا ثبوت نہیں۔
تازہ واقعے میں تصدیق شدہ حقائق مقام کوشامبی، کم از کم 11 اموات، ان میں 8 بچوں کی شمولیت، متعدد زخمی، قریبی عمارتوں کا نقصان اور جاری تفتیش ہیں۔ دھماکے کا اصل سبب اور کسی فرد یا ادارے کی قانونی ذمہ داری اس مرحلے پر غیر متعین ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




