بشکیک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والی عبوری مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر متقابل اقدامات کرے گا۔ ڈان کی براہ راست چیک کی گئی رپورٹ کے مطابق انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں یہ پیش کش کی اور ساتھ ہی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا۔
پزشکیان کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب جون کی مفاہمت پر عمل حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد معطل ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے جزیرہ لارک کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کیے۔ ان واقعات کے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو طے شدہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور عبوری انتظام برقرار نہ رہ سکا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے عملی اقدامات کو دیکھتے ہوئے اسی نوعیت کا جواب دے گا۔ اس بیان کو مکمل امن معاہدہ، معمول کے سفارتی تعلقات یا تمام اختلافات کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ مشروط پیش کش ہے جس میں پہلا قدم امریکی تعمیل سے جوڑا گیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے اس مخصوص تجویز کی باضابطہ قبولیت رپورٹ میں سامنے نہیں آئی۔
ڈان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور علاقائی استحکام سے متعلق اپنی پالیسی کو بھی عبوری مفاہمت کے نفاذ کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کی کشیدگی تیل کی منڈی، بحری انشورنس اور بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم موجودہ بیان سے جہاز رانی کے تمام خدشات ختم ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حملوں کے جواب کا عندیہ دیا ہے، مگر رپورٹ کے مطابق انہوں نے فوری طور پر مکمل جنگ شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ دونوں ملکوں کی عوامی پوزیشنوں میں سختی کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند دکھائی نہیں دیتا۔ عملی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین عبوری مفاہمت کی شقوں، نگرانی اور متقابل اقدامات کی ترتیب پر دوبارہ اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔
ایران اور امریکا کے بیانات میں ہر فریق دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ اس لیے کسی ایک الزام کو غیر متنازع حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب رپورٹ صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ ایرانی صدر نے مشروط آمادگی ظاہر کی، سابق انتظام ٹوٹ چکا ہے اور کشیدگی کے باوجود بات چیت سے حل کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔
آئندہ مرحلے میں کسی مشترکہ اعلامیے، سفارتی رابطے، فوجی کارروائی میں کمی یا آبنائے ہرمز سے متعلق عملی فیصلے کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز فریقین کے دعووں اور تصدیق شدہ اقدامات میں فرق برقرار رکھتے ہوئے اس پیش رفت کی نگرانی کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




