پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھالتے ہوئے رکن ممالک کے لیے خودمختار مصنوعی ذہانت انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی مدت صدارت میں رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی کو مرکزی موضوع بنائے گا۔

وزیراعظم نے مجوزہ ایکشن پلان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت میں کمی، قدرتی آفات کے انتظام، صحت، ثقافت اور کھیل کو اہم شعبے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ اے آئی انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کا مقصد ذمہ دارانہ اور جامع مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تکنیکی تبدیلی کے عمل میں کوئی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے۔

شہباز شریف نے علاقائی رابطہ کاری کو معاشی خوشحالی کے لیے بنیادی عنصر قرار دیتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے ملانے والا راستہ قرار دیا۔ انہوں نے ٹرانس ریجنل ریلوے، سڑکوں کے منصوبوں اور علاقائی توانائی روابط کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

خطاب میں علاقائی سلامتی اور تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ و ایس سی او چارٹر کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔ انہوں نے پانی کے معاہدوں کی غیر مشروط پاسداری پر زور دیا اور کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کے بارے میں انہوں نے پرامن اور مستحکم افغانستان کو پاکستان کی خواہش قرار دیا، ساتھ ہی افغان سرزمین سے دہشت گردی کے پاکستانی خدشات دہرائے۔

وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت بھی دہرائی اور کثیرالجہتی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے اپنی ایس سی او چیئرمین شپ کا موضوع ’Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity‘ رکھا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ پاکستان مجوزہ اے آئی، توانائی، رابطہ کاری اور ترقیاتی اقدامات کو رکن ممالک کے درمیان قابل عمل پروگراموں اور مشترکہ فیصلوں میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے۔