بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں پٹاخہ بنانے والی ایک فیکٹری میں طاقتور دھماکے سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق دھماکے سے فیکٹری کے آس پاس کئی مکانات منہدم ہوئے اور زیادہ تر ہلاکتیں انہی عمارتوں میں رہنے والے افراد کی ہوئیں۔
پولیس افسر ست نارائن پرجاپت نے 11 اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں چار سے 13 سال کے درمیان تھیں۔ حکام نے فوری طور پر زخمیوں کی حتمی تعداد یا ان کی حالت کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دھماکے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور ابتدائی رپورٹ میں کسی مخصوص تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا حفاظتی خلاف ورزی کو حتمی سبب قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے واقعے کی وجہ سے متعلق قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔ مقامی حکام سے توقع ہے کہ فیکٹری کے لائسنس، ذخیرہ کیے گئے آتش گیر مواد، حفاظتی انتظامات اور دھماکے سے پہلے کی سرگرمیوں کی جانچ کی جائے گی۔
بھارت میں آتش بازی کی تیاری اور ذخیرہ کرنے والے مراکز میں مہلک حادثات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ رواں سال مارچ میں مغربی بھارت کی ایک آتش بازی فیکٹری میں آگ سے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اگلے ماہ جنوبی بھارت میں پٹاخوں کے ذخیرے کی ایک تنصیب میں آگ لگنے سے آٹھ افراد جان سے گئے۔ ایسے واقعات کے بعد صنعتی حفاظتی قواعد، لائسنسنگ اور خطرناک مواد کی نگرانی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
کوشامبی کے تازہ حادثے میں بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت نے رہائشی علاقوں کے قریب آتش بازی کی تیاری سے پیدا ہونے والے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ متاثرہ مکانات کے ملبے میں امدادی کارروائیاں اور نقصان کا جائزہ جاری ہے۔ حتمی ذمہ داری اور دھماکے کی وجہ کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا، جبکہ پولیس کی موجودہ معلومات صرف اموات، زخمیوں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کی ابتدائی صورتحال کی تصدیق کرتی ہیں۔




