ایشویل: امریکا کی میزبانی میں ہونے والے جی 20 وزارتی اجلاس میں روسی وزیرِ خزانہ انتون سیلوانوف کی بالمشافہ شرکت اور بعض بین الاقوامی صحافیوں کو رسائی نہ ملنے پر سفارتی اور میڈیا حلقوں میں تنقید سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رائٹرز کی براہ راست چیک کی گئی رپورٹ کے مطابق روس کی 2022 میں یوکرین پر یلغار کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ سیلوانوف نے جی 20 کے ایسے اجلاس میں خود شرکت کی۔
پولینڈ اور جرمنی کے وزرائے خزانہ نے روسی نمائندے کی واپسی پر اعتراض کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سیلوانوف سے دوطرفہ ملاقات بھی کی۔ امریکی جانب سے یہ مؤقف بیان کیا گیا کہ یوکرین جنگ ختم ہونے تک روس کے لیے پابندیوں میں ریلیف زیرِ غور نہیں، تاہم روسی وزیر کی موجودگی نے اس فورم پر ماسکو کے سفارتی کردار کے بارے میں نئی بحث پیدا کردی ہے۔
اجلاس کی رسمی خاندانی تصویر میں سیلوانوف شامل نہیں تھے۔ ان کی شرکت کو روس کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے یا پابندیاں ختم ہونے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ میزبان ملک کی جانب سے ایک کثیرملکی اقتصادی اجلاس کے لیے دعوت تھی، جبکہ یوکرین جنگ، پابندیوں اور سلامتی سے متعلق بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
اجلاس کی میڈیا رسائی بھی متنازع رہی۔ رپورٹ کے مطابق بلومبرگ، نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت بعض اداروں کے صحافیوں کو اسناد جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ تقریباً 300 میڈیا نمائندوں کو منظوری دی گئی اور رسائی کے لیے معیار نافذ کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ متاثرہ اداروں کے سوالات کے تناظر میں یہ تعداد اس بات کا مکمل جواب نہیں کہ مخصوص درخواستیں کیوں رد ہوئیں۔
صحافیوں کی محدود رسائی کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ جی 20 دنیا کی بڑی معیشتوں کے مالی فیصلوں، عالمی قرض اور ترقی کی ترجیحات پر بحث کا مرکزی فورم ہے۔ آزاد رپورٹنگ کے بغیر اجلاس کے بند کمروں میں ہونے والی گفتگو، دوطرفہ ملاقاتوں اور پالیسی اختلافات کی عوامی جانچ محدود ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف میزبان ادارے سکیورٹی اور گنجائش کے ضابطے نافذ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں؛ اصل سوال ان ضابطوں کی واضح اور یکساں تطبیق کا ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی قرض کا بڑھتا بوجھ اور اقتصادی نمو نمایاں موضوعات ہیں۔ رائٹرز کے مطابق عالمی قرض 353 کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے، جس سے کمزور معیشتوں کے لیے مالی گنجائش اور ترقیاتی اخراجات پر دباؤ بڑھتا ہے۔ روس کی شرکت اور صحافتی رسائی کی بحث کے باوجود وزرا کو قرض، سرمایہ کاری اور پائیدار نمو کے عملی مسائل پر بھی پیش رفت دکھانا ہوگی۔
اس مرحلے پر روسی وزیر کی حاضری، بعض صحافیوں کو اسناد نہ ملنا اور یورپی وزرا کی تنقید تصدیق شدہ رپورٹ شدہ واقعات ہیں۔ ان سے امریکا کی مجموعی روس پالیسی میں مستقل تبدیلی یا جی 20 کے تمام ارکان کے مشترکہ مؤقف کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اجلاس کے حتمی اعلامیے اور بعد کی پالیسی کارروائی سے اس سفارتی اشارے کی حقیقی اہمیت واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




